گوگل نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر، ویڈیوز اور آڈیو سے نمایاں واٹر مارک کو اختیاری بنانے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے صارفین کو اپنے کام پر مکمل کنٹرول مل جائے گا۔ اگر آپ پاکستان میں گرافک ڈیزائننگ، فری لانسنگ یا سوشل میڈیا کے لیے گوگل کے اے آئی ٹولز استعمال کر رہے ہیں، تو اس تبدیلی کا مطلب ہے کہ آپ کی تیار کردہ اشیاء پر اب دائیں کونے میں کوئی ڈیجیٹل مہر موجود نہیں ہوگی۔
چ্যাট جی پی ٹی جیسے حریف پہلے ہی اپنے جدید ماڈلز میں واٹر مارک کے بغیر تصاویر ایکسپورٹ کرنے کی سہولت دے رہے تھے، جس کی وجہ سے گوگل پر بھی یہ دباؤ بڑھ رہا تھا۔ یہ نیا فیچر گوگل کے نینو بنانا امیج جنریٹر کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے صارفین جیمینی اور متعلقہ پلیٹ فارمز پر سیٹنگز میں جا کر واٹر مارک کو آن یا آف کر سکتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے اس تبدیلی کی کیا اہمیت ہے
لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں فری لانس ڈیجیٹل کری ایٹرز اور چھوٹے کاروباری حضرات کے لیے اے آئی واٹر مارکس ایک بڑی رکاوٹ تھے۔ جو کلائنٹس اشتہاری مواد یا کسٹم گرافکس کے لیے ادائیگی کرتے تھے، وہ اکثر تھার্ড پارٹی برانڈنگ کے بغیر صاف ستھرا اور پیشہ ورانہ مواد مانگتے تھے۔
پہلے پاکستانی فری لانسرز کو ان ٹیگز کو ہٹانے کے لیے دوسرے ایڈیٹنگ سافٹ ویئر استعمال کرنا پڑتے تھے، جس سے تصاویر کا معیار خراب ہو جاتا تھا۔ اب جیمینی انٹرفیس میں ہی یہ آپشن مل جانے کی وجہ سے آپ پہلی بار میں ہی صاف تصاویر حاصل کر سکیں گے۔
اپنی اے آئی سیٹنگز کو کیسے کنٹرول کریں
گوگل یہ فیچر عالمی سطح پر اپنے ویب اور موبائل انٹرفیس پر پیش کر رہا ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا یہ آپ کے اکاؤنٹ پر فعال ہو چکا ہے، جیمینی اوپن کریں، اپنی جنریشن سیٹنگز میں جائیں اور آؤٹ پٹ کی ترجیحات میں واٹر مارک کا ٹوگل تلاش کریں۔
یاد رکھیں کہ اگرچہ ظاہری واٹر مارک اختیاری ہو رہا ہے، لیکن بڑی ٹیک کمپنیاں اب بھی اے آئی مواد کو ٹریک کرنے کے لیے غیر مرئی میٹا ڈیٹا واٹر مارک کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کاپی رائٹ کے نظام اب بھی فائل کی اصلیت کو پہچان لیں گے، خواہ عام صارفین کو وہ نشان نظر نہ آئے۔
پاکستانی مواد کے تخلیق کاروں کو اب کیا کرنا چاہیے
اگر آپ تجارتی کام کے لیے اے آئی جنریشن پر انحصار کرتے ہیں، تو اپنے ڈیش بورڈ میں یہ آپشن ظاہر ہوتے ہی اس کا تجربہ کریں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ واٹر مارک ہٹانا ان پلیٹ فارمز کی پالیسی کے مطابق ہو جہاں آپ اپنا کام شائع کرتے ہیں۔
آڈیو اور ویڈیو جنریشن کی حدود کے حوالے سے گوگل کی آئندہ اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں تاکہ جنوبی ایشیا میں آپ کا کری ایٹو ورک فلو بہتر رہے۔
