آنے والا جماعت اسلامی کا احتجاج جو 9 اگست کو ہونے جا رہا ہے، پاکستان بھر میں اہم ٹریفک راستوں اور حکومتی مراکز کو مفلوج کر سکتا ہے کیونکہ جماعت نے بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرولیم ٹیکسز کے خلاف اپنی مہم تیز کر دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں یہ تحریک اب راولپنڈی کے دھرنے سے نکل کر ملک گیر احتجاج کی شکل اختیار کر رہی ہے۔

ایک عام پاکستانی کے لیے جو اپنے گھر کا بجٹ بمشکل چلا رہا ہے، یہ احتجاج جہاں ایک طرف سفری مشکلات کھڑی کرے گا، وہاں دوسری طرف حکومت پر ٹیکسوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ایک بڑا سیاسی دباؤ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

یہاں ہم آپ کو بتائیں گے کہ اس احتجاجی منصوبے کے پیچھے کیا مقاصد ہیں، یہ آپ کی روزمرہ کی زندگی کو کیسے متاثر کرے گا، اور جماعت اسلامی حکومت سے کیا مطالبات کر رہی ہے۔

بنیادی مطالبات: پٹرول کی قیمتیں اور پٹرولیم لیوی کا خاتمہ

اس ملک گیر احتجاج کے مرکز میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے اور پٹرولیم لیوی کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

اس وقت حکومت پٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 60 روپے تک پٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے۔ اس لیوی اور دیگر ٹیکسز کی وجہ سے پاکستانیوں کو عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں بہت مہنگا پٹرول خریدنا پڑ رہا ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ اس لیوی کو ختم کر کے عوام کو فوری ریلیف دیا جائے تاکہ اشیائے خوردونوش کی نقل و حمل کے اخراجات بھی کم ہوں۔

اس کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی آئی پی پیز (آزاد بجلی گھروں) کو دی جانے والی کیپیسٹی پیمنٹس کے خلاف بھی سراپا احتجاج ہے، جس کی وجہ سے بجلی کے بل عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔

کہاں اور کب: 9 اگست کو جماعت اسلامی کا احتجاجی منصوبہ

اگر آپ کسی صوبائی دارالحکومت میں رہتے ہیں، تو آپ کو 9 اگست 2024 بروز جمعہ کو سڑکوں کی بندش اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جماعت اسلامی کا احتجاج اب ملک گیر رخ اختیار کر رہا ہے:

  • لاہور: احتجاج کا سب سے بڑا مرکز لاہور ہوگا۔ حافظ نعیم الرحمن نے 9 اگست کو لاہور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کی طرف تاریخی مارچ کا اعلان کیا ہے۔ اس مارچ کی وجہ سے مال روڈ اور اس کے قریبی راستے مکمل بند ہو سکتے ہیں۔
  • کراچی: سندھ کے گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دیا جائے گا جس سے ریڈ زون کی ٹریفک متاثر ہوگی۔
  • پشاور: خیبر پختونخوا کے گورنر ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا ہوگا۔
  • کوئٹہ: بلوچستان کے گورنر ہاؤس کے باہر بھی دھرنے کی کال دی گئی ہے۔

ان دھرنوں کا مقصد صوبائی اور وفاقی حکومتوں پر بیک وقت دباؤ ڈالنا ہے۔

یہ آپ کی روزمرہ زندگی اور بجٹ پر کیسے اثر انداز ہوگا؟

ایک عام شہری کے لیے 9 اگست کو درج ذیل مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے:

  • ٹریفک جام: لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کی اہم شاہراہیں بند ہو سکتی ہیں۔ جمعہ کی دوپہر کو گھر یا دفتر سے نکلنے والوں کو شدید تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
  • پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش: احتجاجی علاقوں میں میٹرو بس سروس اور آن لائن ٹیکسی سروسز عارضی طور پر معطل یا محدود کی جا سکتی ہیں۔
  • کاروباری مراکز: اگرچہ جماعت اسلامی نے مکمل شٹر ڈاؤن کی کال نہیں دی، لیکن سکیورٹی خدشات کے باعث حساس علاقوں میں مارکیٹیں جلد بند ہو سکتی ہیں۔

معاشی طور پر، اگر حکومت دباؤ میں آ کر پٹرولیم لیوی کم کرتی ہے تو اسے آئی ایم ایف (IMF) کی سخت شرائط کی خلاف ورزی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور اگر حکومت مطالبات تسلیم نہیں کرتی تو یہ احتجاج طویل ہو کر ملک میں مزید سیاسی اور معاشی بے یقینی پیدا کر سکتا ہے۔

9 اگست کے لیے آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ لاہور، کراچی، پشاور یا کوئٹہ میں مقیم ہیں تو ان باتوں پر عمل کریں:

  • سفر کی منصوبہ بندی کریں: اگر آپ کا دفتر مال روڈ لاہور یا دیگر شہروں کے گورنر ہاؤسز کے قریب ہے، تو جمعہ کو جلد گھر نکلنے کی کوشش کریں یا گھر سے کام (Work from Home) کو ترجیح دیں۔
  • ٹریفک اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں: گوگل میپس کا استعمال کریں اور سٹی ٹریفک پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس (جیسے ctplahore@ یا Ktrafficpolice@) سے رہنمائی لیں۔
  • غیر ضروری سفر سے گریز کریں: 9 اگست کو شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر رش سے بچنے کے لیے بین الشہری سفر کو مؤخر کریں۔
  • گاڑی میں پٹرول کا ذخیرہ رکھیں: جمعرات کی شام تک اپنی گاڑیوں میں ایندھن پورا کر لیں کیونکہ احتجاجی راستوں پر واقع پٹرول پمپ عارضی طور پر بند ہو سکتے ہیں۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

9 اگست کے احتجاج کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت مذاکرات کا راستہ اپناتی ہے یا طاقت کا استعمال کرتی ہے۔ 15 اگست کو پٹرول کی قیمتوں کے آئندہ جائزے سے قبل وزارت خزانہ یا وزارت توانائی کی جانب سے کسی ممکنہ ریلیف کے اعلان پر نظر رکھیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا دیگر سیاسی جماعتیں یا تاجر برادریاں اس احتجاج میں باقاعدہ شامل ہوتی ہیں یا نہیں۔