ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کی آمد و رفت کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات تقریباً طے پا گئے ہیں، جس کے پاکستان کی توانائی کی درآمدات اور معیشت پر براہ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے جہاز ایران کے قریب واقع سمندری راستہ استعمال کریں گے جبکہ باہر نکلنے والے جہاز سلطنت عمان کے نزدیک سے گزریں گے۔ اس پیشرفت کے پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے، آئیے جائزہ لیتے ہیں۔
پاکستان کی توانائی کی درآمدات پر اثرات
پاکستان اپنی توانائی کی بیشتر ضروریات بالخصوص تیل اور ایل این جی کی درآمد کے لیے مشرق وسطیٰ کے سمندری راستوں پر انحصار کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی ترسیل کا سب سے اہم ترین کوریڈور ہے۔ اگر اس نئے انتظام سے اس آبی گزرگاہ پر بحری ٹریفک محفوظ ہوتی ہے تو پاکستان کے لیے ایندھن کی سپلائی لائنز زیادہ مستحکم ہو سکتی ہیں۔ تاہم، اگر اس نظام میں کسی قسم کی پیچیدگی پیدا ہوئی تو فریٹ اور انشورنس کے نرخ بڑھ سکتے ہیں، جس کا بوجھ اوگرا اور نیپرا کے ذریعے براہ راست عام پاکستانی کی جیب پر پڑتا ہے۔
سفارتی اور علاقائی پس منظر
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ہونے والی پیشرفت سے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاملات طے کرنا پیچیدہ عمل ہے اور امریکہ کو اس حوالے سے متوازن حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ خطے میں تناؤ میں کمی پاکستان جیسے ملک کے لیے انتہائی خوش آئند ہے جو معاشی چیلنجز سے نبردآزما ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
بطور پاکستانی شہری آپ عالمی سفارت کاری کا رخ تو تبدیل نہیں کر سکتے لیکن حکومت کی جانب سے ہر پندرہ دن بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخوں پر گہری نظر رکھیں۔ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر ہونے والی یہ تبدیلیاں براہ راست آپ کے ماہانہ بجٹ، ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور بجلی کے بلوں کو متاثر کرتی ہیں، اس لیے آنے والے ہفتوں میں توانائی کی مارکیٹ کے رجحانات سے باخبر رہیں۔
