تہران میں سفارتی پیش رفت اور عسکری حکمتِ عملی میں تبدیلی کے ساتھ ہی iran us tension pakistan impact کا براہِ راست اثر پاکستانی عوام کے بجٹ، پٹرولیم قیمتوں اور سرحدی تجارت پر پڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حال ہی میں جنگی صورتحال پر رہبرِ اعلیٰ سے اہم مشاورت کی ہے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا تیسرا سپریم لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد سے اب تک وہ منظرِ عام پر نہیں آئے۔ صدر پزشکیان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سفارتکاری اور مذاکرات نے امریکا کو مفاہمت پر مجبور کیا ہے اور موجودہ حالات کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔

تاہم سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے 6 سخت شرائط رکھ دی ہیں۔ ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے صریح الفاظ میں کہا ہے کہ امریکا کو آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال تسلیم کرنا ہوگی کیونکہ ایران اپنے تزویراتی موقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا۔

پٹرول، ایل پی جی اور مہنگائی پر پڑنے والے اثرات

پاکستان اپنی خام تیل اور ایل این جی (LNG) کی درآمدات کے لیے 80 فیصد سے زائد منحصر خلیجی بحری راستوں اور آبنائے ہرمز پر کرتا ہے۔ اگر امریکا اور ایران کی کشیدگی کے باعث اس بحری گزرگاہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں فوری طور پر پرواز کر جائیں گی۔

ائل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ہر 15 دن بعد بین الاقوامی قیمتوں کے مطابق پاکستان میں پٹرول اور ڈیوٹی کا تعین کرتی ہے۔ خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں حکومت پاکستان کو عوام پر پٹرولیم مصنوعات کا بوجھ منتقل کرنا پڑے گا، جس سے ٹرانسپورٹ کے کرائے اور اشیائے خوردونوش بالخصوص پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مزید مہنگی ہو جائیں گی۔

اس کے علاوہ، پاکستان کے اندر بالخصوص سرحدی علاقوں اور بڑے شہروں میں استعمال ہونے والی ایل پی جی کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ سردیوں میں گیس کی قلت کے دوران اگر ایران کے ساتھ زمینی اور بحری سپلائی چین متاثر ہوئی تو ایل پی جی کے سلنڈر عام صارف کی پہنچ سے دور ہو جائیں گے۔

بلوچستان کی سرحدی تجارت اور سیکورٹی پر اثرات

آبنائے ہرمز کے علاوہ تہران میں ہونے والی ہر سیاسی تبدیلی تفتان، گبد اور مندر کی سرحدی گزگاہوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

  • مقامی معیشت اور بارٹر ٹریڈ: کوئٹہ، گوادر اور سرحدی اضلاع کے ہزاروں افراد کا روزگار ایرانی خوارک، سستے تیل اور تعمیری سامان پر انحصار کرتا ہے۔ سرحد پر کشیدگی یا بندش سے ان کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا۔
  • سرحدی سیکیورٹی: ایرانی فوج کی توجہ خلیج فارس میں امریکی دباؤ پر مرکوز ہونے سے 900 کلومیٹر طویل پاک ایران سرحد پر سمگلنگ اور انتہا پسند عناصر کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا پاکستانی سیکورٹی فورسز کے لیے اضافی چیلنج بن سکتا ہے۔
  • گوادر کے لیے بجلی کی فراہمی: ساحلی پٹی کے کئی علاقے ایرانی پاور گرڈ سے بجلی حاصل کرتے ہیں، جس کی باقاعدگی کا انحصار تہران کے معاشی و انتظامی حالات پر ہے۔

عام شہری اور کاروباری افراد کیا کریں؟

  • اوگرا کے 15 روزہ نوٹیفکیشن پر نظر رکھیں: ہر ماہ کی 1 اور 16 تاریخ سے پہلے عالمی منڈی کا جائزہ لیں تاکہ پٹرول کی قیمتوں میں متوقع اضافے سے پہلے اپنے سفری اخراجات اور ایندھن کا بندوبست کر سکیں۔
  • تاجر متبادل ذرائع کا انصرام کریں: خلیجی ممالک یا ایران سے خام مال منگوانے والے تاجر بحری نقل و حمل کے متبادل راستے اور اضافی اسٹاک رکھیں۔
  • ایل پی جی صارفین: سردیوں کی آمد پر گیس کی متوقع قلت سے بچنے کے لیے وقت سے پہلے سلنڈر کی ری فلنگ کو یقینی بنائیں۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

آنیوالے دنوں میں سب سے اہم پیش رفت یہ ہوگی کہ امریکا تہران کی ان 6 شرائط پر کیا ردِعمل دیتا ہے۔ اگر سفارتکاری ناکام ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اوگرا کا اگلا نوٹیفکیشن ہی پاکستانیوں کی جیب پر پڑنے والے بوجھ کا تعین کرے گا۔