نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے نئے مکہ دفاعی معاہدہ کی تفصیلات شیئر کیں، تو انہوں نے فوراً ایک سفارتی وضاحت بھی پیش کی کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ اسلام آباد میں بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے زور دیا کہ یہ اقدام پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں کے عین مطابق ہے اور اس کا مقصد خطے میں دیرپا امن قائم کرنا ہے، جبکہ دیگر برادر ممالک کے لیے بھی اس میں شمولیت کا راستہ کھلا ہے۔
کاغذی حد تک یہ بیان ایک روایتی سفارتی جملہ معلوم ہوتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں یہ کہنا کہ کوئی معاہدہ "کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں" ایک عام طریقہ کار ہے۔ لیکن اس جانی پہچانی تحریر کے پیچھے ایک باریک سفارتی توازن چھپا ہوا ہے جو پاکستان کی سلامتی، ملٹری صلاحیتوں اور معاشی حالات پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
سہ فریقی معاہدے کے بنیادی نکات
- شامل ممالک: پاکستان، مملکتِ سعودی عرب، اور جمہوریہ ترکیہ۔
- بنیادی مقصد: مشترکہ دفاعی تعاون، اسلحہ سازی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور علاقائی سلامتی۔
- اہم شق: خالصتاً دفاعی نوعیت؛ دیگر خودمختار ممالک کی شمولیت کے لیے دروازے کھلے ہیں۔
- ریاستی موقف: عدم جارحیت اور عدم مداخلت کی پاکستانی خارجہ پالیسی سے مکمل ہم آہنگی۔
سفارتی زبان کی حقیقت: اسلام آباد یہ وضاحت کیوں دیتا ہے؟
جب پاکستانی حکام یہ دہرا تے ہیں کہ یہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں، تو وہ دراصل خطے کی مخصوص حساسیت کو مدنظر رکھ رہے ہوتے ہیں۔ پاکستان کی 900 کلومیٹر سے زائد سرحد ایران کے ساتھ ملتی ہے، جبکہ بھارت کے ساتھ دفاعی تناؤ برقرار ہے اور واشنگٹن و بیجنگ کے ساتھ بھی تعلقات کا توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔
معاہدے کو صرف "دفاعی" قرار دے کر اسلام آباد تہران کو ایک واضح پیغام دیتا ہے۔ خطے میں پہلے ہی کشیدگی موجود ہے، جیسا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی خلاف ورزیوں پر مذاکرات سے انکار کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان اس تاثر سے بچنا چاہتا ہے کہ وہ کسی ایسے بلاک کا حصہ بن رہا ہے جو ایران کے خلاف ہو سکتائ ہو۔ دیگر ممالک کو شمولیت کی دعوت دینا بھی اسی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
اسی طرح، یہ وضاحت مغربی ممالک اور واشنگٹن کو بھی تسلی دیتی ہے کہ یہ تعاون کسی نئی صف بندی کے لیے نہیں بلکہ صرف دفاعی استحکام کے لیے ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ: عملی میدان میں اس کا کیا فائدہ ہے؟
یہ معاہدہ مسلم دنیا کی تین بڑی طاقتوں کے اہم شعبوں کو یکجا کرتا ہے: پاکستان کی تجربہ کار فوج، ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی، اور سعودی عرب کے مالی وسائل۔
پاکستان کی دفاعی صنعت—خصوصاً پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ اور ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا—کے لیے یہ معاہدہ مشترکہ پروڈکشن اور برآمدات کے نئے راستے کھولتا ہے۔ ترکیہ کے ڈرونز اور نیول ٹیکنالوجی کو سعودی سرمایہ کاری کے ساتھ ملا کر پاکستان اپنے دفاعی نظام کو قومی خزانے پر زیادہ بوجھ ڈالے بغیر جدید بنا سکتا ہے۔
عام پاکستانی شہری کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
اگرچہ دفاعی معاہدے عام شہری کو مہنگائی یا بجلی کے بلوں سے دور نظر آتے ہیں، لیکن ایسے بڑے معاہدوں کے معاشی اثرات بھی ہوتے ہیں:
- غیر ملکی سرمایہ کاری: سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعلقات کی مضبوطی سے دیگر معاشی شعبوں جیسے توانائی اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھتے ہیں۔
- روزگار کے مواقع: دفاعی پیداوار میں اضافے سے ملک کے اندر انجینئرنگ اور ٹیکنیکل شعبوں میں روزگار کے نئے در کھلتے ہیں۔
- ترسیلاتِ زر کا تحفظ: سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانی سالانہ اربوں ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں۔ ریاض کے ساتھ مضبوط دفاعی تعلقات ان ورکرز کے روزگار اور قانونی تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
یہ دیکھنے کے لیے کہ یہ معاہدہ محض سفارتی بیان ہے یا عملی اقدام، آنے والے دنوں میں ان امور پر نظر رکھیں:
- مشترکہ دفاعی کمیٹی کے اجلاس: راولپنڈی، ریاض اور انقرہ کے درمیان ہتھیاروں کی مشترکہ تیاری کے منصوبے۔
- تہران کا ردِعمل: پاک ایران سرحدی تعاون اور سفارتی رابطوں کی صورتحال۔
- نئے ممالک کی شمولیت: کیا قطر یا دیگر علاقائی ممالک اس معاہدے کا حصہ بنتے ہیں یا نہیں۔
