وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ موجودہ سیاسی ڈھانچہ کہیں نہیں جا رہا اور شہباز شریف کی حکومت اپنی آئینی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی۔ اسلام آباد میں 6 جون 2026 کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے اعتراف کیا کہ ملک کا انتظامی نظام پچھلے اسی سالوں میں تباہ ہو چکا ہے، لیکن اس کے باوجود موجودہ سیٹ اپ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ان کے اس بیان نے مہینوں سے جاری سیاسی افواہوں پر فل اسٹاپ لگا دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وفاقی وزارتوں کے چہرے تبدیل نہیں ہوں گے اور پالیسیاں بھی برقرار رہیں گی۔ کراچی سے لے کر پشاور تک روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے والے عام شہری کے لیے اس سیاسی تسلسل کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکسوں اور انتظامی فیصلوں میں کوئی اچانک تبدیلی نہیں دیکھی جائے گی۔
محسن نقوی کے بیان کا پس منظر اور نظام کی خرابی
اپنی گفتگو میں محسن نقوی نے سیاسی بقا اور انتظامی کارکردگی کے درمیان واضح فرق رکھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کا انتظامی ڈھانچہ بنیادی طور پر تباہ حال ہے، اور ان کی تنقید کا ہدف پچھلے اسی برسوں کی خرابیاں ہیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے تمام وفاقی وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا بھی اعلان کیا۔ یہ آڈٹ اس بات کا جائزہ لے گا کہ کون سی وزارت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہے اور کس نے صرف فنڈز ضائع کیے ہیں۔ ان کارکردگی رپورٹس کے نتائج کو عوام کے سامنے لانے کا بھی کہا گیا ہے، تاکہ ہر وزارت کی کارکردگی کا کچا چٹھا سب کے سامنے آ سکے۔
آپ کے گھریلو بجٹ پر اس کا کیا اثر پڑے گا
جب کوئی حکومت اپنی مدت پوری کرنے کا پختہ ارادہ ظاہر کرتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ طویل المدتی معاشی پالیسیاں جاری رہیں گی۔ اس کا عام آدمی پر براہ راست اثر یہ پڑتا ہے کہ آپ کو مہنگائی یا ٹیکسوں کے نظام میں کسی بڑے پاپولسٹ ریلیف کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ ایف بی آر کے ٹیکس اہداف، نیپرا کے بجلی کے نرخ اور اوگرا کی پٹرولیم قیمتیں اسی موجودہ انتظامی فریم ورک کے تحت چلتی رہیں گی۔ چونکہ حکومتی اتحاد کی ترجیح اپنی مدت پوری کرنا اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ طے شدہ اہداف کو پورا کرنا ہے، اس لیے انتخابات سے پہلے کسی بڑے معاشی ریلیف کی امید کم ہی ہے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
چونکہ سیاسی نظام اپنی آئینی مدت تک برقرار رہنے جا رہا ہے، اس لیے کسی معجزے یا حکومت کی قبل از وقت تبدیلی کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی مالی منصوبہ بندی پر توجہ دیں۔ اپنے ٹیکس گوشوارے وقت پر جمع کروائیں، بجلی اور گیس کے استعمال میں بچت کریں، اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے آمدنی کے متبادل ذرائع تلاش کریں۔ چونکہ اب وفاقی وزارتوں کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا اعلان کیا گیا ہے، اس لیے سرکاری محکموں کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور خراب خدمات پر متعلقہ پورٹلز پر شکایات درج کروائیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
آنے والے مہینوں میں اس بات پر گہری نظر رکھیں کہ وفاقی وزارتوں کے آڈٹ کے نتائج کس طرح سامنے آتے ہیں۔ یہ رپورٹس بتائیں گی کہ کون سے محکمے فعال ہیں اور کون سے بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ پارلیمانی کارروائی اور انتظامی اصلاحات پر بھی توجہ رکھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ حکومت اسی سال پرانے نظام کو سدھارنے کے لیے کتنی سنجیدہ ہے۔ سیاسی میدان تو 2029 تک طے ہو چکا ہے، لیکن اب حکومتی کارکردگی ہی اصل امتحان ہوگی۔
