وفاقی وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ اس وقت قومی میڈیا کی سرخیوں میں نمایاں ہے جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے تمام سرکاری محکموں کا تیسرے فریق سے سخت آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر آپ کا کوئی کاروبار ہے، آپ کراچی میں تجارت سے وابستہ ہیں، یا وفاقی لاجسٹکس کے ذریعے سامان کلیئر کراتے ہیں، تو یہ اعلیٰ سطحی پالیسی ہلچل براہ راست آپ کے کاروباری اخراجات اور ریڈ ٹیپ سے جڑی ہے۔ اس تجویز کا مقصد بیوروکریٹک سستی کا خاتمہ ہے، لیکن اس نے ملک بھر کے تجارتی مراکز میں ایک عجیب سی خاموشی پیدا کر دی ہے۔

سیاسی حلقے انتظامی کارکردگی پر بحث کر رہے ہیں، لیکن تجارتی دارالحکومتوں کے کارپوریٹ بورڈ رومز کا ردعمل انتہائی محتاط ہے۔ کراچی اور لاہور کے صنعتکار اور تجارتی رہنما اس مجوزہ گورন্যান্স ری سیٹ پر کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہیں اور فی الحال حالات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ یہاں اس بحث کے بنیادی حقائق پیش کیے جا رہے ہیں:

  • تجویز: وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے تمام وفاقی وزارتوں کا آزادانہ اور تیسرے فریق سے کارکردگی کا جائزہ لینے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔
  • مقصد: ادارہ جاتی سستی کا خاتمہ، بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرنا، اور سول انتظامیہ میں جوابدہی کو یقینی بنانا۔
  • کارپوریٹ ردعمل: کراچی کے اہم تجارتی اداروں اور صنعتی رہنماؤں نے محتاط اور انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے عوامی بیانات سے گریز کیا ہے۔
  • جغرافیائی مرکز: اس پالیسی کے اثرات اسلام آباد کے وفاقی سیکریٹریٹس سے شروع ہو کر کراچی کی بندرگاہ اور کاروباری کوریڈورز تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

کاروباری رہنماؤں کی خاموشی کی وجہ

جب محسن نقوی جیسا سینئر وزیر شہری وزارتوں کے بیرونی آڈٹ کا مطالبہ کرتا ہے، تو اس کا مطلب عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ اندرونی نگرانی کا نظام ناکام ہو چکا ہے۔ کاروباری حضرات جانتے ہیں کہ وفاقی وزارتیں اہم ریگولیٹری اداروں، برآمدی مراعات، یوٹیلیٹی ٹیرف اور درآمدی لائسنسوں کو کنٹرول کرتی ہیں۔ آزادانہ جائزے سے یا تو سرخ فیتے کا خاتمہ ہوگا یا پھر بیوروکریٹس اپنے بچاؤ کے لیے فائلوں کے فیصلے عارضی طور پر روک دیں گے۔

مزید برآں، تجارتی تنظیمیں کھل کر بات کرنے سے اس لیے ہچکچا رہی ہیں کہ حکومت پر تنقید کرنے سے ٹیکس آڈٹ یا ریگولیٹری چیکس میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ مقامی صنعت کار وزارتِ تجارت، خزانہ اور صنعت و پیداوار کے ساتھ رابطے کے طریقوں میں ممکنہ بہتری اور دفتری مداخلت کے خطرے کا تول مول کر رہے ہیں۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ کا کاروبار وفاقی منظوریوں، ڈیوٹی ڈرا بیکس یا امپورٹ پرمٹس پر منحصر ہے، تو گھبرائیں نہیں لیکن دفتری سست روی کے لیے تیار رہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور متعلقہ وزارتوں کے ساتھ اپنے تمام کاغذات بالکل شفاف اور مکمل رکھیں تاکہ اچانک بیوروکریٹک احتیاط کا شکار نہ ہوں۔ اپنی تعمیلاتی جانچ پڑتال کو متنوع بنائیں اور اپنی تجارتی تنظیم کے نمائندوں سے براہ راست رابطہ رکھیں تاکہ وزارتوں کی جانب سے فائلیں رکنے کی صورت میں آپ کو بروقت معلوم ہو سکے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

وزیر اعظم کے سیکریٹریٹ پر گہری نظر رکھیں کہ آیا تیسرے فریق کے آڈٹ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہوتا ہے یا نہیں۔ اس بات کا مشاہدہ کریں کہ آڈٹ فرموں کو کیا شرائطِ کار (TORs) دی جاتی ہیں اور کیا نفاذ کے قوانین سامنے آنے کے بعد تجارتی ادارے اپنی خاموشی توڑتے ہیں۔ اس گورন্যান্স مہم کی کامیابی کا دار و مدار اس بات پر ہوگا کہ اس سے واقعی پالیسی آسان ہوتی ہے یا دفتری کاغذی کارروائی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔