وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں فعال کسٹمز بونڈڈ ویئر ہاؤسز پاکستان کا تین سالہ آزادانہ اڈٹ کرانے کی ہدایت جاری کی ہے، جس کا مقصد ٹیکس چوری کا خاتمہ اور غیر ملکی تیل کی ذخیرہ اندوزی کے لیے قومی انفراسٹرکچر کو تیار کرنا ہے۔
حکومت کا یہ اقدام امپورٹ سپلائی چین میں ٹیکس لیکیج کو روکنے اور خلیجی ممالک کی بڑی آئل کمپنیوں کے لیے بین الاقوامی معیار کے ضوابط تیار کرنے کی ایک براہ راست کوشش ہے۔
- پڑتال کا دائرہ کار: گزشتہ تین سالوں (2023ء تا 2026ء) کے دوران لائسنس یافتہ تمام کسٹمز بونڈڈ سہولیات کا مکمل اڈٹ۔
- بنیادی مقصد: غیر قانونی سامان کی نذرِ آتش یا نکاسی، ڈیوٹی چوری اور غلط بیانی کا خاتمہ۔
- حکمت عملی: آرامکو اور ایڈنوک جیسی خلیجی کمپنیوں کے لیے خام و صاف شدہ پٹرولیم مصنوعات کی مقامی سطح پر ذخیرہ اندوزی کی راہ ہموار کرنا۔
- عملدرآمد کرنے والے ادارے: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، پاکستان کسٹمز، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور تھرڈ پارٹی اڈٹ فرمز۔
کسٹمز بونڈڈ ویئر ہاؤسز کیا ہیں اور ان کا اڈٹ کیوں ضروری ہے؟
کسٹمز بونڈڈ ویئر ہاؤسز ایسے مخصوص گودام ہوتے ہیں جہاں درآمد شدہ سامان—بشمول خام مال، الیکٹرانکس، کیمیکلز اور پٹرولیم مصنوعات—کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس کی فوری ادائیگی کے بغیر رکھا جا سکتا ہے۔ درآمد کنندگان صرف اسی وقت ڈیوٹی ادا کرتے ہیں جب سامان کو مقامی مارکیٹ میں فروخت کے لیے نکالا جائے۔ اگر سامان دوبارہ برآمد کر دیا جائے تو کوئی مقامی ڈیوٹی لاگو نہیں ہوتی۔
اگرچہ یہ نظام جائز تاجروں کو کیش فلو کی سہولت دینے کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن انتظامی کمزوریوں اور کرپشن کی وجہ سے ان گوداموں کا غلط استعمال عام ہو چکا ہے۔ تاجر اکثر ایف بی آر کے واجبات ادا کیے بغیر سامان نکال لیتے ہیں یا زیادہ قیمت والے سامان کی کم قیمت ظاہر کر کے برائے نام ڈیوٹی دیتے ہیں۔
وزیراعظم کے 2023ء سے 2026ء تک کے اس تین سالہ اڈٹ کے حکم سے گوداموں میں موجود سامان اور ٹیکس رسیدوں کا ملان کیا جائے گا۔ ایف بی آر کو نان ڈائریکٹ ٹیکسز میں مستقل خسارے کا سامنا ہے، اور ان سہولیات سے اربوں روپے کی غیر ادا شدہ ڈیوٹی کی وصولی قومی خزانے کو سہارا دے سکتی ہے۔
خلیجی ممالک سے تیل کی ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں کا تعلق
اس اڈٹ کا وقت براہ راست سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ پاکستان کے تیل ذخیرہ کرنے کے منصوبے سے جڑا ہوا ہے۔ اسلام آباد ایک قانون سازی پر کام کر رہا ہے جس کے تحت غیر ملکی توانائی کمپنیاں پاکستانی بونڈڈ ٹینکس میں خام اور صاف شدہ تیل کے ذخائر رکھ سکیں گی۔
اس منصوبے کے تحت، خلیجی سپلائرز اپنے تیل کے مالک رہیں گے اور انہیں فوری طور پر ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا۔ جب بھی پاکستانی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) یا ریفائنریوں کو تیل کی ضرورت ہوگی، وہ ان بونڈڈ ذخائر سے تیل خرید کر اسی وقت واجب الادا ڈیوٹیز ادا کریں گی۔
خلیجی سپلائرز کے لیے اپنے لاکھوں بیرل تیل کی حفاظت کی ضمانت ضروری ہے۔ اگر مقامی بونڈڈ گوداموں میں چوری، غیر درج شدہ لیکیج یا جعلی کاغذات کا خطرہ ہو تو غیر ملکی کمپنیاں یہاں تیل نہیں رکھیں گی۔ لہٰذا، کسٹمز بونڈڈ ویئر ہاؤسز کا شفاف اڈٹ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے اولین شرط ہے۔
ٹیکس چوری کا عام شہری کی جیب پر اثر
ایک عام شہری کے لیے کسٹمز کا اڈٹ شاید صرف سرکاری کاغذی کارروائی لگے، لیکن اس کا اثر براہ راست گھریلو بجٹ پر پڑتا ہے۔
جب تاجر خام مال یا سامان پر ڈیوٹی چوری کرتے ہیں تو حکومت کو مالی خسارہ ہوتا ہے۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت اکثر عام عوام پر سیلز ٹیکس، پٹرولیم لیوی یا بجلی اور گیس کے بلوں میں اضافہ کر دیتی ہے۔ کسٹمز کے قوانین کی سخت پابندی سے ٹیکس کا بوجھ عام عوام کے بجائے بڑی تجارتی کمپنیوں پر منتقل ہوگا۔
مزید برآں، ملک میں تیل کا بونڈڈ ذخیرہ موجود ہونے سے ایندھن کی قلت پر قابو پایا جا سکے گا۔ ماضی میں زرمبادلہ کی کمی کے باعث لیٹر آف کریڈٹ (LCs) نہ کھلنے کی وجہ سے پٹرول کی قلت اور قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پاکستان میں پہلے سے موجود بونڈڈ تیل کی بدولت کمپنیاں روپے میں فوری تیل خرید سکیں گی، جس سے مارکیٹ میں ایندھن کا بحران پیدا نہیں ہوگا۔
تاجروں اور عام شہریوں کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ تجارت سے وابستہ ہیں یا درآمد شدہ سامان پر انحصار کرتے ہیں تو درج ذیل امور پر توجہ دیں:
- درآمد کنندگان اور گودام مالکان: 2023ء کے بعد کے اپنے تمام انوینٹری رجسٹرز، گڈز ڈکلیئریشنز (GDs) اور ٹیکس چالان فوری طور پر درست کریں۔ کیونکہ تھرڈ پارٹی اڈیٹرز کسٹمز کے ڈیٹا کا فزیکل اسٹاک سے براہ راست موازنہ کریں گے۔
- صنعتی شعبہ: خام مال کے لیے بونڈڈ گوداموں پر انحصار کرنے والے صنعت کار اپنے سپلائرز سے رابطہ رکھیں۔ غیر قانونی گوداموں کی سیلنگ کی صورت میں خام مال کی ترسیل میں عارضی تاخیر ہو سکتی ہے۔
- عام صارفین: پٹرولیم مارکیٹ پر نظر رکھیں۔ یہ پالیسی فوری طور پر پٹرول سستا نہیں کرے گی، لیکن طویل مدتی بنیادوں پر ایندھن کی ترسیل اور قیمتوں میں استحکام لائے گی۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
توقع ہے کہ وفاقی حکومت اگلے چند ہفتوں میں تھرڈ پارٹی اڈٹ پینل کی منظوری دے گی جو کراچی کی بندرگاہوں، لاہور اور فیصل آباد کے ڈرائی پورٹس اور علاقائی آئل ڈیپوؤں میں موجود اسٹاک کا جائزہ لیں گے۔
ایف بی آر کی جانب سے بونڈڈ قوانین اور خلاف ورزی پر سزاؤں کے نئے نوٹیفکیشنز پر نظر رکھیں۔ ساتھ ہی، پٹرولیم ڈویژن خلیجی تیل ذخیرہ کرنے کی پالیسی کا حتمی ڈرافٹ وفاقی کابینہ کو پیش کرے گی، جس کے بعد تجارتی ایندھن کی آمد شروع ہو سکے گی۔
