صدر آصف علی زرداری کی جانب سے منگل، 23 جولائی 2024 کو ہائی کورٹ کے ججوں کی تعیناتی کی منظوری نے اس ہفتوں پرانے تعطل کو ختم کر دیا ہے جس نے پاکستان کے عدالتی نظام کو سست کر رکھا تھا۔ اسلام آباد کے ایوان صدر میں سمری پر دستخط کرتے ہوئے، صدر نے پانچ ہائی کورٹس میں 19 ایڈیشنل ججوں کی شمولیت کو حتمی شکل دی اور 5 دیگر کو مستقل جج مقرر کرنے کی منظوری دی۔

عدالتوں میں اپنے کیسز کے فیصلے کے منتظر لاکھوں پاکستانیوں کے لیے یہ محض ایک روایتی دفتری کارروائی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے ملک میں انتہائی اہم پیش رفت ہے جہاں قانونی نظام انتہائی سست رفتاری سے چلتا ہے۔

اس فیصلے کے اہم حقائق درج ذیل ہیں:
- منظور شدہ ججوں کی کل تعداد: مجموعی طور پر 24 جج۔
- ایڈیشنل جج: عارضی نشستوں پر 19 نئے جج تعینات کیے گئے۔
- مستقل جج: 5 موجودہ ایڈیشنل ججوں کو مستقل کر دیا گیا۔
- متاثرہ عدالتیں: لاہور ہائی کورٹ (LHC)، سندھ ہائی کورٹ (SHC)، پشاور ہائی کورٹ (PHC)، اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) اور بلوچستان ہائی کورٹ (BHC)۔
- جوڈیشل کمیشن کی منظوری: جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) نے دو الگ الگ اجلاسوں میں ان ناموں کی منظوری دی تھی، لیکن حتمی صدارتی منظوری 23 جولائی 2024 تک زیر التوا تھی۔
- اضافی قانون سازی: صدر نے سپریم کورٹ کے ججوں کی مراعات کو ان کے وفاقی عدالت کے ہم منصبوں کے برابر لانے کے بل پر بھی دستخط کیے۔

مقدمات کا التوا: ہائی کورٹ کے ججوں کی تعیناتی آپ کے لیے کیوں اہم ہے؟

اگر آپ کا پاکستان کی کسی بھی ہائی کورٹ میں کوئی سول، فوجداری یا ٹیکس کا کیس چل رہا ہے، تو آپ تاریخ پر تاریخ کے کلچر سے بخوبی واقف ہوں گے۔ پاکستان کی صوبائی ہائی کورٹیں اس وقت لاکھوں زیر التوا مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔

جب ہائی کورٹس میں ججوں کی آسامیاں خالی ہوتی ہیں، تو موجودہ ججوں پر کام کا بوجھ حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ججوں کی کمی کے باعث اکثر بینچ ٹوٹ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ضمانت کی درخواستوں سے لے کر جائیداد کے تنازعات تک کے اہم مقدمات مہینوں آگے بڑھا دیے جاتے ہیں۔

لاہور، سندھ، پشاور، اسلام آباد اور بلوچستان ہائی کورٹس میں 24 ججوں کی تعیناتی سے عدلیہ کو فوری افرادی قوت میسر آئے گی۔ ججوں کی تعداد بڑھنے سے فعال بینچوں کی تعداد بڑھے گی۔ ایک عام سائل کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اس کے کیس کی سماعت مقررہ تاریخ پر ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے اور وقت کی کمی کا بہانہ ختم ہو جائے گا۔

تعطل کی وجوہات: یہ تعیناتیاں کیوں رکی ہوئی تھیں؟

ہائی کورٹ کے ججوں کی تعیناتی کا معاملہ جوڈیشل کمیشن اور حکومت کے درمیان ایک خاموش مگر شدید رسہ کشی کا شکار تھا۔ جوڈیشل کمیشن نے ہفتوں پہلے دو الگ الگ اجلاسوں میں ان ناموں کو حتمی شکل دی تھی۔

پاکستان کے آئین کے تحت، جہاں جوڈیشل کمیشن ناموں کی سفارش کرتا ہے، وہیں حتمی تعیناتی کے لیے وزیر اعظم کی ایڈوائس اور صدر کی منظوری لازمی ہوتی ہے۔ حکومت اور عدلیہ کے درمیان سیاسی کھینچا تانی اور طریقہ کار کے اختلافات کی وجہ سے یہ فائلیں صدارتی دفتر میں دھول چاٹ رہی تھیں۔

23 جولائی 2024 کو اس معاملے کا اچانک حل ہونا ریاستی اداروں کے مابین ایک عارضی معاہدے یا اتفاق رائے کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ سمجھوتہ انتظامی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عدلیہ شدید سیاسی دباؤ کا شکار ہے۔

سپریم کورٹ ججوں کی مراعات کے بل میں کیا ہے؟

ہائی کورٹ کے ججوں کی تعیناتی کے ساتھ ہی صدر زرداری نے ایک اور بل پر دستخط کیے جس کے تحت سپریم کورٹ کے ججوں کی مالی اور انتظامی مراعات میں ترمیم کی گئی ہے۔ اب ان کی مراعات کو وفاقی عدالت کے ججوں کے مساوی کر دیا گیا ہے۔

اگرچہ اس اقدام پر عوامی حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے کہ معاشی بحران کے دوران تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کیوں کیا گیا، لیکن حامیوں کا موقف ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کی مالی خود مختاری کو یقینی بنانا عدالتوں کو بیرونی اثر و رسوخ سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔

اگر آپ کا کیس عدالت میں ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کا ان پانچ ہائی کورٹس میں سے کسی میں بھی مقدمہ چل رہا ہے، تو آپ کو درج ذیل عملی اقدامات کرنے چاہئیں:

  1. اپنے وکیل سے رابطہ کریں: اپنے وکیل سے فوری رابطہ کریں اور معلوم کریں کہ کیا آپ کا کیس کسی نئے بننے والے بینچ کو منتقل تو نہیں ہوا۔ 24 نئے ججوں کی آمد سے روزانہ کی کاز لسٹ تبدیل ہو جائے گی۔
  2. آن لائن پورٹل چیک کریں: متعلقہ ہائی کورٹ (جیسے لاہور ہائی کورٹ یا سندھ ہائی کورٹ) کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر اپنے کیس کی اگلی تاریخ اور بینچ کی معلومات حاصل کریں۔
  3. فوری سماعت کے لیے تیار رہیں: اگر آپ کا کیس ججوں کی کمی کی وجہ سے تاخیر کا شکار تھا، تو اب اس کی تیزی سے سماعت متوقع ہے۔ اپنے تمام قانونی دستاویزات اور گواہان کو تیار رکھیں۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

اگرچہ 24 ججوں کا اضافہ ایک مثبت قدم ہے، لیکن یہ پاکستان کے عدالتی نظام کی تمام بیماریوں کا علاج نہیں ہے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا جوڈیشل کمیشن اور حکومت اسی تعاون کو برقرار رکھتے ہوئے نچلی اور اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی دیگر خالی اسامیوں کو بھی پُر کر پاتے ہیں یا نہیں۔

مزید برآں، یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان نئے ججوں کو کن شہروں میں تعینات کیا جاتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ، جہاں مقدمات کا سب سے بڑا بوجھ ہے، کو اپنے علاقائی بینچوں (ملتان، بہاولپور اور راولپنڈی) کو فعال کرنے کے لیے ان ججوں کی سخت ضرورت ہے۔ آنے والے ہفتوں میں ان ججوں کی تعیناتی ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا عوام کو حقیقی ریلیف ملا ہے یا نہیں۔