پروسٹیٹ کینسر کا ہڈیوں تک پھیلنا ایک ایسی طبی اصطلاح ہے جس نے حالیہ دنوں میں عالمی توجہ حاصل کی ہے، خاص طور پر سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی صحت سے متعلق اطلاعات کے بعد۔ ان کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کے والد کا کینسر پروسٹیٹ سے نکل کر ہڈیوں تک پہنچ چکا ہے، جو کہ بیماری کا ایک ایڈوانسڈ مرحلہ ہے۔

پروسٹیٹ کینسر کا ہڈیوں تک پھیلاؤ کیا ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق، جب کینسر کے خلیات بنیادی جگہ (پروسٹیٹ) سے نکل کر خون یا لمفیٹک سسٹم کے ذریعے ہڈیوں تک پہنچ جاتے ہیں، تو اسے 'میٹاسٹیٹک' کینسر کہا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ ریڑھ کی ہڈی، پیڑو (pelvis) یا پسلیوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس مرحلے پر علاج کا مقصد کینسر کو مکمل ختم کرنے کے بجائے بیماری کو مزید بڑھنے سے روکنا اور مریض کی تکلیف میں کمی لانا ہوتا ہے۔

یہ بیماری تکلیف دہ کیوں ہوتی ہے؟

جیسا کہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے، یہ بیماری انتہائی تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔ جب کینسر کے خلیات ہڈیوں میں جگہ بنا لیتے ہیں تو وہ ہڈیوں کو کمزور کر دیتے ہیں، جس سے شدید درد اور فریکچر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان میں شوکت خانم یا آغا خان جیسے بڑے ہسپتالوں میں ایسے مریضوں کے لیے ہارمونل تھراپی، ریڈی ایشن اور ہڈیوں کو مضبوط کرنے والی ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مریض کو ریلیف مل سکے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ یا آپ کا کوئی پیارا پروسٹیٹ کی صحت کے حوالے سے فکرمند ہے، تو درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:

  • باقاعدہ اسکریننگ: 50 سال سے زائد عمر کے مردوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ڈاکٹر سے PSA (پروسٹیٹ اسپیسیفک اینٹی جن) ٹیسٹ کے بارے میں مشورہ کریں۔
  • علامات پر نظر رکھیں: پیشاب کے معمول میں تبدیلی، پیڑو میں مسلسل درد یا کمر کا ایسا درد جو ٹھیک نہ ہو رہا ہو، ان علامات کو نظر انداز نہ کریں۔
  • ماہر ڈاکٹر سے رابطہ: کینسر کی تشخیص کی صورت میں کسی مستند آنکولوجسٹ (کینسر کے ماہر) سے رجوع کریں اور بروقت علاج شروع کروائیں۔
  • سپورٹ سسٹم: ایسی بیماری میں مبتلا مریض کے لیے درد کا انتظام اور ذہنی سکون بہت ضروری ہے۔

مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟

کینسر کے علاج میں جدید ٹیکنالوجیز اور نئی ادویات پر مسلسل تحقیق ہو رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور کینسر ریسرچ کے بڑے ادارے وقتاً فوقتاً ایسی گائیڈ لائنز جاری کرتے ہیں جو ایڈوانسڈ کینسر کے مریضوں کے لیے بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ یاد رکھیں، بروقت تشخیص اور علاج ہی اس بیماری کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار ہے۔