اگرچہ وفاقی حکومت کی جانب سے 11 اگست 2024 کے لیے پاکستان میں پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ بظاہر ایک عارضی ریلیف دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کے گھریلو بجٹ پر دباؤ کم ہونے والا نہیں ہے۔ بظاہر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی نہ کرنا معاشی استحکام کا اشارہ دیتا ہے، لیکن پسِ پردہ گڈز ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ناکام مذاکرات اور بلوچستان میں بجلی کی طویل بندش یہ ظاہر کرتی ہے کہ عام آدمی کے لیے مشکلات برقرار رہیں گی۔

صارفین کی سہولت کے لیے ہم نے اس صورتحال سے جڑے اہم حقائق کو یکجا کیا ہے:
- پیٹرولیم قیمتیں: 11 اگست 2024 کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھی گئی ہیں۔
- ٹرانسپورٹ ہڑتال: حکومت سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد ملک گیر گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال جاری ہے۔
- بجلی کی بندش: کوئٹہ میں 11 اگست 2024 اور 12 اگست 2024 کو بجلی کی فراہمی معطل رہے گی۔
- اوگرا کا فیصلہ: وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد اوگرا نے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا۔

پاکستان میں پیٹرول کی قیمت اور روزانہ کی بنیاد پر تعین کا نظام

روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے نئے طریقہ کار کے تحت اوگرا نے وفاقی حکومت کی منظوری سے 11 اگست 2024 کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد صارفین کو پیٹرول پمپس پر کسی فوری اضافے یا کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ تاہم، روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا مطلب یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں یا ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں معمولی تبدیلی بھی آنے والے دنوں میں براہ راست آپ پر اثر انداز ہوگی۔

قیمتوں کا برقرار رہنا اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ مہنگائی کم ہو رہی ہے۔ عام طور پر جب پیٹرول سستا ہوتا ہے یا قیمتیں برقرار رہتی ہیں، تو مقامی دکاندار اور ٹرانسپورٹرز کرایوں یا اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی نہیں کرتے۔ وہ صرف قیمتیں بڑھنے پر ہی اپنے نرخ بڑھاتے ہیں۔ اس لیے پاکستان میں پیٹرول کی قیمت مستحکم رہنے سے پمپس پر تو سکون رہے گا، لیکن مارکیٹ میں اشیاء سستی نہیں ہوں گی۔

مذاکرات کی ناکامی اور گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کا خطرہ

ایک طرف جہاں ایندھن کی قیمتیں مستحکم ہیں، وہیں دوسری طرف ملک بھر میں سامان کی نقل و حمل مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ وفاقی حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، جس کے بعد ٹرانسپورٹرز نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے رہنما ملک شہزاد اعوان نے واضح کیا ہے کہ "جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے، احتجاج ختم نہیں ہوگا"۔

ٹرانسپورٹرز بھاری ٹیکسوں، ٹول پلازہ فیسوں میں اضافے اور ایکسل لوڈ کی حد کے نفاذ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ چونکہ گڈز ٹرانسپورٹ ملکی سپلائی چین کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس لیے اس ہڑتال سے بڑے شہروں میں سبزیوں، پھلوں، اناج اور صنعتی خام مال کی سپلائی معطل ہو جائے گی۔ اگر یہ ہڑتال مزید طول پکڑتی ہے تو منڈیوں میں قلت پیدا ہو جائے گی، جس سے قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی۔

کوئٹہ میں بجلی کی بندش: کیسکو کا دو روزہ شیڈول

دوسری جانب، بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے شہریوں اور کاروباری طبقے کو بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) نے برقی لائنوں کی ضروری مرمت اور ترقیاتی کاموں کے باعث 11 اگست 2024 اور 12 اگست 2024 کو شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش کا شیڈول جاری کیا ہے۔

اس دو روزہ جزوی بلیک آؤٹ کی وجہ سے مقامی صنعتوں اور گھروں کو متبادل کے طور پر ڈیزل جنریٹر چلانے پڑیں گے۔ جنریٹر کے استعمال سے ایندھن کا خرچ بڑھے گا، جس کا حتمی بوجھ کوئٹہ کے شہریوں پر ہی پڑے گا کیونکہ کاروباری ادارے اپنے اضافی اخراجات وصول کرنے کے لیے مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دیں گے۔

صارفین اب کیا کریں؟

موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے صارفین کو درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
- ضروری اشیاء کا ذخیرہ کریں: گھر کے لیے ضروری سبزیاں اور راشن وقت سے پہلے خرید لیں۔ گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کی وجہ سے ہفتے کے وسط تک مارکیٹ میں قلت اور مہنگائی کا خدشہ ہے۔
- کوئٹہ کے رہائشی تیاری کریں: اگر آپ کوئٹہ میں مقیم ہیں تو 11 اگست 2024 سے پہلے یو پی ایس کی بیٹریاں اور موبائل چارج کر لیں اور پانی کا ذخیرہ کر لیں کیونکہ بجلی کی بندش کے دوران پانی کے پمپ نہیں چل سکیں گے۔
- غیر ضروری شپمنٹ مؤخر کریں: اگر آپ تاجر ہیں یا سامان کی نقل و حمل کرنا چاہتے ہیں تو حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان تنازع حل ہونے تک انتظار کریں۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

آنے والے دنوں میں حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹ کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات پر نظر رکھیں۔ اگر حکومت نے ٹیکس مطالبات واپس نہ لیے تو ہڑتال مزید سخت ہو سکتی ہے، جس سے ملک بھر میں سپلائی کا بحران پیدا ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اوگرا کے روزانہ کے نوٹیفیکیشنز پر بھی نظر رکھیں، کیونکہ عالمی مارکیٹ میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کا اثر فوری طور پر پاکستان میں پیٹرول کی قیمت پر پڑے گا۔