پاکستان اور ایران کے درمیان پاک ایران تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا اعلان محض ایک سفارتی بیان نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا ہدف ہے جو اگر حقیقت کا روپ دھارے تو آپ کے توانائی کے بلوں اور روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت اس ہدف کے مقابلے میں بہت کم ہے، جس کی بڑی وجہ بینکاری نظام کی رکاوٹیں اور سرحد پار سیکیورٹی کے مسائل ہیں۔

پاک ایران تجارت کا ہدف اور عام آدمی

عام پاکستانی کے لیے اس کا مطلب صرف اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتیں نہیں، بلکہ ایران پاکستان (IP) گیس پائپ لائن کی تکمیل ہے۔ اگر حکومت بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اس منصوبے کو فعال کر لیتی ہے، تو ملک کو سستی گیس میسر آ سکتی ہے، جس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی کا امکان پیدا ہوگا۔

  • ایندھن کی قیمتیں: ایرانی توانائی تک براہ راست رسائی سے مہنگی ایل این جی (LNG) پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔
  • سرحدی تجارت: باضابطہ تجارت سے کوئٹہ اور کراچی کی منڈیوں میں ایرانی اشیاء اور تعمیراتی سامان سستا ہو سکتا ہے۔
  • برآمدات میں اضافہ: پاکستانی ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات کے لیے ایران ایک بڑی منڈی ثابت ہو سکتا ہے جہاں زمینی راستے سے مال پہنچانا سمندری راستے کی نسبت سستا ہے۔

بینکاری نظام کی رکاوٹیں

اس ہدف کو حاصل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور ایرانی بینکوں کے درمیان براہ راست ادائیگی کا میکانزم نہ ہونا ہے۔ جب تک دونوں ممالک کے درمیان لین دین کے لیے کوئی محفوظ اور بین الاقوامی پابندیوں سے بچاؤ والا بینکنگ چینل نہیں بنتا، تجارت کا بڑا حصہ غیر رسمی ذرائع یا بارٹر سسٹم تک محدود رہے گا۔

آپ کو ایسی خبروں پر نظر رکھنی چاہیے جن میں 'ادائیگی کے خصوصی نظام' یا دونوں مرکزی بینکوں کے درمیان کسی معاہدے کا ذکر ہو۔ اس کے بغیر 10 ارب ڈالر کا ہدف صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہے گا۔

آپ کو کیا دیکھنا چاہیے؟

ایف بی آر (FBR) کی طرف سے سرحدی کسٹم پوائنٹس پر ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھیں۔ اگر تفتان اور مند-پشین بارڈر پر تجارت کو جدید اور دستاویزی شکل دی جاتی ہے، تو آپ کو مقامی منڈیوں میں ایرانی اشیاء کی فراہمی میں بہتری نظر آئے گی۔

تاہم، غیر قانونی طور پر اسمگل ہونے والی اشیاء سے ہوشیار رہیں۔ یہ اشیاء سستی تو ہو سکتی ہیں لیکن ان کا معیار پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) سے تصدیق شدہ نہیں ہوتا، جس سے آپ کو نقصان ہو سکتا ہے۔

آپ کیا کر سکتے ہیں؟

اگر آپ بلوچستان میں کاروبار کرتے ہیں یا صارف ہیں، تو 'بارڈر سسٹیننس مارکیٹس' کی پیشرفت پر نظر رکھیں۔ حکومت ان مارکیٹوں کو بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ مقامی لوگوں کو سستی اشیاء مل سکیں۔ اگر یہ مارکیٹیں فعال ہو گئیں تو اشیاء کی قیمتوں میں اسمگلنگ کے باعث ہونے والے اچانک اتار چڑھاؤ میں کمی آئے گی۔

یاد رکھیں، یہ ایک طویل مدتی عمل ہے جو علاقائی سیاست اور حکومت کی مستقل تجارتی پالیسی پر منحصر ہے۔ راتوں رات بڑی تبدیلی کی توقع کے بجائے حکومتی اقدامات اور سرحدی پالیسیوں میں آنے والی سختی اور نرمی پر نظر رکھیں۔