جب محکمہ موسمیات (PMD) پاکستان کے موسم کے حوالے سے اگلے 2 سے 3 روز مزید بارشوں کی پیشگوئی کرتا ہے، تو یہ صرف چھتری ساتھ رکھنے کا مشورہ نہیں ہوتا۔ لاہور، فیصل آباد اور سندھ کے نشیبی علاقوں میں رہنے والوں کے لیے یہ الرٹ اربن فلڈنگ یعنی شہری سیلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔
2 سے 3 روز کا وقفہ کیوں اہم ہے؟
محکمہ موسمیات کا '2 سے 3 روز' کا کہنا ایک مسلسل موسمی نظام کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ زمین پانی جذب کرنے کی صلاحیت کھو دے گی اور نکاسی آب کا نظام دباؤ کا شکار ہوگا۔ شیخوپورہ میں چھت گرنے کا حالیہ افسوسناک واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پرانی اور کمزور عمارتیں مسلسل بارشوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر آپ کے گھر کی چھت میں دراڑیں ہیں یا دیواریں نمی پکڑ رہی ہیں، تو فوری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
- نکاسی آب کا انتظام: اپنی چھت کے پرنالے اور گھر کے باہر گلی کی نالیوں کو کچرے سے صاف کریں تاکہ پانی جمع نہ ہو۔
- بجلی کے آلات: اگر آپ کا علاقہ نشیبی ہے تو بجلی کے اہم آلات اور سوئچ بورڈز کو پانی سے محفوظ اونچائی پر رکھیں۔
- سفر میں احتیاط: موٹر سائیکل سوار خاص طور پر بارش کے آغاز میں محتاط رہیں۔ سڑکوں پر موجود مٹی اور تیل بارش کے پانی کے ساتھ مل کر پھسلن پیدا کرتے ہیں، جو حادثات کا سبب بن سکتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
اگلے 72 گھنٹوں کے بعد، محکمہ موسمیات کی فلڈ ایڈوائزری پر نظر رکھیں۔ شمالی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار رہے گا۔ اگر آپ گلیات یا شمالی علاقہ جات کی طرف سفر کا ارادہ رکھتے ہیں تو اسے مؤخر کرنا ہی بہتر ہے۔ یاد رکھیں، بارش رکنے کے بعد بھی زمین گیلی ہونے کی وجہ سے تودے گرنے کا خطرہ کچھ وقت تک برقرار رہتا ہے۔
صرف سرکاری یا مستند ذرائع سے موسم کی اپ ڈیٹ حاصل کریں۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی پرانی ویڈیوز سے گھبرانے کے بجائے محتاط رہیں۔ اپنے اردگرد کے حالات پر نظر رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے اپنے علاقے کے ریسکیو نمبرز اپنے پاس محفوظ رکھیں۔
