تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر 2026 کو اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ کے اعلان نے ملک میں سیاسی محاذ آرائی کو ایک بار پھر عروج پر پہنچا دیا ہے۔ اگر آپ جڑواں شہروں کے درمیان سفر کرتے ہیں، پشاور سے راولپنڈی یا اسلام آباد کا رخ کرنے کا سوچ رہے ہیں، تو اس مہینے کے آخر میں ہائی ویز کی بندش اور پولیس کے کڑے پہرے کے لیے تیار رہیں۔

پارٹی کی اندرونی صفوں میں بھی اس کال کے حوالے سے گرما گرمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ علیمہ خان نے اس تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور مؤقف اپنایا ہے کہ یہ طریقہ کار بانی پی ٹی آئی کو طویل انتظار میں رکھنے کے مترادف ہے، اس لیے رہائی اور پارٹی کے مؤقف پر فوری اور واضح حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے۔

پی ٹی آئی کے مطالبات اور احتجاج کی وجوہات

اس لانگ مارچ کا بنیادی مقصد عمران خان کی رہائی اور عدالتی انصاف کا حصول ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بدھ کے روز پشاور میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات نہ مانے تو وہ اسلام آباد کا رخ کریں گے۔

سہیل آفریدی نے جلسے میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پارٹی کو بھیک نہیں بلکہ آئینی انصاف چاہیے اور انہیں اپنا قائد بہ ہر قیمت واپس چاہέ۔ ان کے مطالبات میں عدلیہ سے فوری انصاف کی فراہمی اور قید رہنما کی رہائی سرفہرست ہیں۔

اندرونی اختلافات اور سیاسی حکمت عملی

عوامی سطح پر تیاریوں کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر تاخیر پر تحفظات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اتنے طویل وقفے کے بعد تاریخ دینے سے انتظامیہ کو راستے بند کرنے اور سیکیورٹی اقدامات سخت کرنے کا پورا موقع مل جاتا ہے۔ علیمہ خان کی ناراضگی اس بات کا ثبوت ہے کہ کارکن اور خاندان کے افراد فوری اور فیصلہ کن اقدامات کے حق میں ہیں، جبکہ موجودہ تاخیری حربے کارکنوں میں مایوسی پیدا کر رہے ہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ کا تعلق پنجاب یا خیبر پختونخوا سے ہے اور آپ کو سفر کرنا پڑتا ہے، تو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:

  • 25 ستمبر 2026 سے لے کر مہینے کے آخر تک اسلام آباد اور راولپنڈی کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
  • اہم شاہراہوں اور فیض آباد کے قریب رہنے والے شہری بنیادی اشیاء اور ایندھن کا مناسب ذخیرہ کر لیں۔
  • موٹروے پولیس اور مقامی خبروں کی مدد سے سفر سے پہلے راستوں کی صورتحال ضرور جانچ لیں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

آئندہ چند روز میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ حکومت اس 27 ستمبر کی کال پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔ دفعہ 144 کا نفاذ، پی ٹی آئی رہنماؤں کی ممکنہ گرفتاریاں، اور پارٹی کے اندرونی دباؤ کے باعث حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آتی ہے یا نہیں، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا۔