پاکستانی آٹو انڈسٹری نے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر نئی آٹو پالیسی کے نفاذ اور غیر یقینی ٹیکس ڈھانچے پر فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ اس وقت مقامی کار ساز ادارے شدید ترین بے یقینی کا شکار ہیں کیونکہ نئی پالیسی تاخیر کا شکار ہے اور درآمدی و مقامی گاڑیوں کے حوالے سے حکومت کا کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آ رہا۔
جب تک وفاقی کابینہ اور متعلقہ ادارے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرتے، خریداروں اور ڈیلرز دونوں کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے بڑا نشانہ وہ لوگ بن رہے ہیں جو نئی گاڑی خریدنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
ہائبرڈ گاڑیوں کی فروخت کیوں رک گئی ہے؟
حالیہ بحران کی سب سے بڑی وجہ ہائبرڈ اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کا یکدم بڑھ جانا ہے۔ پہلے ان گاڑیوں پر ٹیکس صرف ساڑھے آٹھ فیصد تھا، لیکن آٹو پالیسی کی مدت ختم ہوتے ہی یہ بڑھ کر سیدھا پچیس فیصد پر پہنچ گیا۔ اس اچانک اضافے نے ہائبرڈ گاڑیوں کی مارکیٹ کو زمین بوس کر دیا ہے۔
اب خریدار شو رومز کا رخ کرنے سے کترارہے ہیں کیونکہ لاکھوں روپے کا اضافی ٹیکس ان کی قوت خرید سے باہر ہو چکا ہے۔ مارکیٹ میں یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ موجودہ ٹیکس سسٹم اشرافیہ کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔ ایک عام مثال یہ دی جاتی ہے کہ چھوٹی مقامی ہیچ بیک کار پر بھی بھاری ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جبکہ کروڑوں روپے کی لگژری ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس کا تناسب کئی جگہوں پر سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔
قیمتوں اور پروڈکشن کا موجودہ حال
صارفین کے لیے اس پوری کشمکش کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ میں گاڑیوں کے دام اوپر نیچے ہو رہے ہیں اور پلانٹس کی پیداوار بھی سست پڑ چکی ہے۔ کمپنیاں یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انہیں اگلے مالی سال کے لیے کس قسم کی درآمدی اشیاء اور پارٹس کے کوٹے پر کام کرنا ہے۔
- مقامی کار سازوں کی پیداوار میں کمی آ چکی ہے۔
- درآمدی خام مال اور پارٹس کے مسائل جوں کے توں ہیں۔
- خریدار مہنگائی کے باعث نئی گاڑیوں کی بکنگ سے گریز کر رہے ہیں۔
جب تک وزیراعظم آفس اس معاملے میں خود مداخلت کر کے ایف بی آر اور وزارتِ صنعت و پیداوار کو واضح ہدایات جاری نہیں کرتا، یہ تعطل برقرار رہے گا۔
اب عام خریدار کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ ان دنوں کوئی نئی گاڑی یا ہائبرڈ ماخذ خریدنے کا سوچ رہے ہیں، تو کچھ بنیادی باتوں کا خیال رکھیں تاکہ نقصان سے بچ سکیں۔
فوری طور پر کسی بڑی بکنگ سے گریز کریں جب تک حکومت کی طرف سے نئی آٹو پالیسی کا باقاعدہ اعلان نہیں ہو جاتا۔ اگر آپ کو اشد ضرورت ہے تو استعمال شدہ یا کیش مارکیٹ کی گاڑی کا انتخاب کریں تاکہ ڈیلرز کے وعدوں اور پالیسی تبدیلیوں کے خطرے سے محفوظ رہیں۔ شو روم جانے سے پہلے ایف بی آر کی تازہ ترین ٹیکس سلیبز کو ضرور چیک کریں تاکہ آپ کو بعد میں کسی ناخوشگوار حیرت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آئندہ چند ہفتوں میں وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا حکومت ٹیکسوں میں کچھ ریلیف دیتی ہے یا نہیں۔ آٹو انڈسٹری کی یہ اپیل رنگ لاتی ہے یا نہیں، اس کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ ایف بی آر ہائبرڈ گاڑیوں کے ٹیکس ریٹ پر نظر ثانی کرتا ہے یا نہیں۔ آپ کو چاہیے کہ مارکیٹ کی خبروں پر نظر رکھیں اور پالیسی کی منظوری تک کوئی بھی بڑا مالی قدم اٹھانے سے پہلے ماہرین سے مشورہ ضرور کریں۔
