پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کی جانب سے بلند و بالا چوٹیوں سے لاشیں نکالنے کا یہ عمل پاکستان کے ایڈونچر ٹ্যুরزم کے تلخ حقائق کو واضح کرتا ہے۔ جمعرات، 7 اگست 2025 کو فوجی ہوابازی کے دستوں نے براڈ پیک کی برف پوش ڈھلوانوں سے برطانوی-نیپالی کوہ پیمانہ نرمال پُرجہ اور تین دیگر کوہ پیماؤں کی میتیں کامیابی کے ساتھ نکال لیں۔ یہ دردناک آپریشن اس ہولناک برفانی تودے (ایلانچی) کے ایک ہفتے بعد کیا گیا جس نے دس افراد پر مشتمل بین الاقوامی مہم جو ٹیم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ان تمام کوہ پیماؤں کے زندہ بچ جانے کی امیدیں پہلے ہی دم توڑ چکی تھیں۔ جن لوگوں کی نظریں گلگت بلتستان کی کوہ پیمائی کی صنعت پر ہیں، ان کے لیے یہ حادثہ انتہائی بلندیوں پر ریسکیو اور حفاظتی پروٹوکولز کا ازسرنو جائزہ لینے کا تقاضا کرتا ہے۔
براڈ پیک کا ریسکیو اور اصل واقعہ
نرمال پُرجہ اور ان کے ساتھی کوہ پیماؤں کی میتیں نکالنے کا یہ آپریشن الپائن کلب آف پاکستان (ACP) کی نگرانی میں کیا گیا، جب زمینی تلاش کی ٹیمیں اس خطرناک مقام تک پہنچنے میں کامیاب رہیں۔ الپائن کلب کے مطابق، سرچ ٹیم نے 7 اگست 2025 کو فوجی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ایئر لفٹ کرنے سے پہلے لاشوں کو براڈ پیک بیس کیمپ تک کامیابی سے پہنچا دیا تھا۔ متعلقہ کمپنیوں نے تصدیق کی ہے کہ اس بین الاقوامی مہم جو ٹیم کا کوئی بھی فرد زندہ نہیں بچا، جس سے کوہ پیمائی کا یہ سفر عالمی برادری کے لیے ایک بڑا سانحہ بن گیا۔ سکردو میں مقامی حکام اور مہم جوز کے منتظمین نے کارکورم رینج کے غیر متوقع موسم میں فوجی پائلٹس کے ساتھ مل کر اس مشکل کام کو سر انجام دیا۔
سیاحت اور حفاظتی حقائق
اگرچہ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ نرمال پُرجہ جیسی نامور شخصیات پر مرکوز ہے، لیکن اس واقعے نے اس بھاری لاجسٹک بوجھ کو بھی بے نقاب کیا ہے جو کسی حادثے کی صورت میں پاکستان کے ریاستی نظام پر پڑتا ہے۔ زیادہ بلندی پر ریسکیو آپریشنز کے لیے خصوصی ایوی ایشن اثاثوں، ماہر فوجی پائلٹس اور مقامی پورٹرز کی ضرورت ہوتی ہے جو بالتورو اور گوڈن آسٹن جیسے گلیشیئرز پر اپنی زندگیاں خطرے میں ڈالتے ہیں۔ 7 ہزار میٹر سے زائد بلندی سے لاشیں نکالنے کا مالی اور انسانی خرچہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مہم جو کمپنیوں کو مقامی حکام کی طرف سے جاری کردہ حفاظتی ضوابط، انشورنس کی شرائط اور موسم کی پیشگوئی پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ ایڈونچر کے شوقین ہیں، ٹ্যুর آپریٹر ہیں یا شمالی علاقوں میں ٹریکنگ کا ارادہ رکھتے ہیں، تو آپ کو مصدقہ ذرائع سے باخبر رہنا چاہیے۔ سفر کا پروگرام بنانے سے پہلے الپائن کلب آف پاکستان کے پورٹل سے لازمی معلومات حاصل کریں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ جس مہم میں بھی شامل ہوں، اس کے پاس ہنگامی انخلا کی جامع انشورنس موجود ہو جو فوجی ہیلی کاپٹر کے اخراجات کا احاطہ کرتی ہو، کیونکہ یہ لاگت لاکھوں روپوں تک پہنچ سکتی ہے۔ موسم گرما میں کوہ پیمائی کے سیزن کے دوران مقامی انتظامیہ کی ایڈوائزری کا احترام کریں اور خطرناک برفانی راستوں پر زبردستی آگے بڑھنے سے گریز کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
گلگت بلتستان کی وزارتِ سیاحت کی جانب سے غیر ملکی اور مقامی کوہ پیماؤں کے لیے لازمی ٹریکر کے کرایے اور انشورنس بانڈز کے حوالے سے پالیسی کا جائزہ لینے پر نظر رکھیں۔ اس برفانی تودے کے بعد کے حالات ممکنہ طور پر کے ٹو، براڈ پیک اور گیشربرم کے بیس کیمپس میں مزید سخت حفاظتی ضوابط کا باعث بنیں گے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا حکومت ڈیزاسٹر کے دوران آرمی ایوی ایشن پر انحصار کم کرنے کے لیے زمین پر مزید ریسکیو ٹیمیں تعینات کرنے کا حکم دیتی ہے یا نہیں۔
