جب کوئی سیاستدان یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وفاقی حکومت کا الٹی گنتی شروع ہو چکا ہے، تو ایک عام پاکستانی کے لیے یہ محض انتخابی نعرہ نہیں، بلکہ معاشی غیر یقینی صورتحال کی علامت ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد دی گئی یہ دھمکی اگرچہ پی ایم ایل این کی حکمرانی کو چیلنج کرنے کے لیے ہے، لیکن اس کا حقیقی اثر اسلام آباد میں پالیسیوں کے جمود کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
وفاقی حکومت کا الٹی گنتی شروع ہونا آپ کی جیب پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟
سیاسی عدم استحکام کا مطلب صرف یہ نہیں کہ وزیراعظم ہاؤس میں کون بیٹھا ہے۔ جب حکومت دباؤ میں ہوتی ہے، تو وہ اکثر آئی ایم ایف یا عالمی بینک کی طرف سے درکار مشکل فیصلے کرنے سے گریز کرتی ہے۔ اگر حکومت کی تمام تر توجہ اپنی بقا اور احتجاج سے نمٹنے پر مرکوز ہو جائے، تو ایف بی آر (FBR) کے لیے محصولات کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کی صورت میں ڈالا جاتا ہے۔
اپنے بجلی اور گیس کے بلوں پر نظر ڈالیں۔ جب حکومت کمزور ہوتی ہے، تو نیپرا (NEPRA) اور اوگرا (OGRA) جیسے ادارے قیمتوں کے تعین میں تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قیمتوں میں تاخیر سے ہونے والی ایڈجسٹمنٹ بعد میں بڑے جھٹکوں کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ اگر سیاسی ماحول گرم رہا تو روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر ایندھن اور ادویات کی قیمتوں پر پڑے گا۔
کیا یہ الٹی گنتی واقعی کوئی خطرہ ہے؟
عملی طور پر، سیاسی الٹی گنتی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حکومت طویل مدتی اصلاحات کے بجائے مختصر مدتی مقبول اقدامات پر توجہ مرکوز کرے گی۔ آپ کو ضروری اشیاء یا بجلی پر عارضی سبسڈی تو مل سکتی ہے، لیکن یہ اکثر نوٹ چھاپ کر یا اندرونی قرضے لے کر دی جاتی ہے، جو طویل مدت میں مہنگائی کو مزید ہوا دیتی ہے۔
- لاہور، اسلام آباد اور مظفر آباد جیسے بڑے شہروں میں سیاسی ریلیوں کی تعداد میں اضافے کے لیے تیار رہیں۔
- احتجاج کے دنوں میں پبلک ٹرانسپورٹ یا انٹرنیٹ کی بندش کے خدشات کو مدنظر رکھیں۔
- اسٹیٹ بینک کی شرح سود میں تبدیلیوں پر نظر رکھیں، جو حکومت کی قرض لینے کی ضرورت سے متاثر ہوتی ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
گھبرائیں نہیں، لیکن تیاری رکھیں۔ اگر آپ کاروبار کر رہے ہیں یا گھریلو بجٹ سنبھال رہے ہیں، تو ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے لیے کچھ بچت لازمی رکھیں۔ جب تک سیاسی صورتحال مستحکم نہ ہو، بڑے مالیاتی فیصلوں یا قرضوں سے گریز کریں۔
10 اگست کو ہونے والی ریلیوں پر نظر رکھیں۔ اگر یہ تحریک ملک گیر سطح پر پھیلتی ہے، تو اسٹاک مارکیٹ (PSX) میں اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ ہے کہ سیاسی گرمی کے دوران غیر یقینی اسٹاکس کے بجائے مستحکم شعبوں پر توجہ دیں۔
آگے کیا ہونے والا ہے؟
حکومت کے ردعمل پر نظر رکھیں۔ اگر حکمران اتحاد اپوزیشن کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچ جاتا ہے، تو یہ 'الٹی گنتی' محض ایک سیاسی چال ثابت ہوگی۔ لیکن اگر بیان بازی قبل از وقت انتخابات کی طرف مڑ گئی، تو معیشت میں جمود کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں بڑے ترقیاتی منصوبے اگلی حکومت کے قیام تک معطل ہو سکتے ہیں۔
