بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں مون سون کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے مختلف واقعات میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جن میں زیادہ تر کسان اور زرعی مزدور شامل تھے جو بارش کے باوجود کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔ دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف علاقوں میں شدید حملوں کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے جن سے رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ پاکستانی شہریوں کے لیے ان تمام واقعات کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ بدلتے ہوئے موسمی حالات اور علاقائی کشیدگی کے دوران زندگی اور املاک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ جب آپ پاکستان کے مقامی محکمہ موسمیات کی وارننگز کو دیکھتے ہیں، تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ شدید موسمی تبدیلیوں کے دوران کھلے آسمان تلے کام کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
کھلے کھیتوں میں کام کرنے کے خطرات اور مون سون کی صورتحال
جھارکھنڈ کے اس دلخراش واقعے کا اصل سبب طوفانی بارشوں کے دوران مناسب پناہ گاہ کے بغیر کھلے کھیتوں میں کام جاری رکھنا تھا۔ ہمارے ہاں پنجاب اور سندھ کے دیہی علاقوں میں لاکھوں کسان اور زرعی مزدور ہر سال مون سون کے موسم میں بالکل اسی قسم کے خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ بارش شروع ہونے پر کسان اکثر کام مکمل کرنے کی جلدی میں یہ بھول جاتے ہیں کہ کھلے کھیت آسمانی بجلی کا نشانہ بننے کے لیے سب سے زیادہ غیر محفوظ جگہ ہوتے ہیں۔ اگر آپ طوفان کے دوران کسی اکیلے درخت کے نیچے یا دھاتی آلات کے قریب موجود ہیں، تو بجلی گرنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
پاکستانی کسانوں اور شہریوں کے لیے عملی حفاظتی تدابیر
شدید موسم اور طوفان کے دوران اپنی جان بچانے کے لیے این ڈی ایم اے اور صوبائی اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کرنا ضروری ہے۔ جیسے ہی گرج چمک کے ساتھ طوفان شروع ہو، آپ کو فوری طور پر کھیت چھوڑ کر کسی پختہ عمارت یا بند گاڑی کے اندر پناہ لینی چاہیے۔ بلند و بالا اکیلے درختوں، بجلی کے کھمبوں اور پانی کے تالابوں سے دور رہنا ہی آپ کی زندگی کی بہترین ضمانت ہے۔ اگر آپ دیہی علاقوں میں زرعی مزدوروں کی نگرانی کرتے ہیں، تو طوفانی بادل آتے ہی تمام بیرونی کاموں کو فوری طور پر معطل کرنے کا اصول بنا لیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر آئندہ کے لیے کیا دیکھیں
جنوبی ایشیا میں موسمیاتی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی موسم کی پیشگوئی کے نظام اور قبل از وقت وارننگ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی جانب سے جاری ہونے والی وارننگز پر کڑی نظر رکھیں تاکہ آپ کو آنے والے طوفان اور مون سون کی شدت کا بروقت اندازہ ہو سکے۔ ضلعی انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ وہ دیہی علاقوں میں کسانوں کے لیے آسمانی بجلی سے بچاؤ سے متعلق آگاہی مہمات چلائے تاکہ قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔ آپ کی ہوشیاری اور احتیاط ہی آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کو ناگہانی حادثات سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
