فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کو خریدنے کے لیے پاکستان، چین اور ترکی کے 12 ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی جانب سے بولیاں جمع کرائے جانے کے بعد فیسکو نجکاری کا عمل ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ حکومت طویل عرصے سے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فیسکو، جو فیصل آباد اور اس کے گردونواح کے صنعتی اضلاع میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی ہے، پاکستان کی دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھانے والا ادارہ ہے۔ اسے نجی مالکان کے ہاتھ بیچنے سے لاکھوں صارفین کے لیے بجلی کی فراہمی کا پورا نظام بدل جائے گا۔

موجودہ صورتحال کے اہم حقائق درج ذیل ہیں:
- ہدف ادارہ: فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO)
- موصول ہونے والی بولیاں: 12 ممکنہ سرمایہ کار اور کنسورشیم
- سرمایہ کار ممالک: پاکستان، چین اور ترکی
- نگران ادارہ: نجکاری کمیشن آف پاکستان
- ریگولیٹری اتھارٹی: نیپرا (NEPRA)

فیسکو کو کیوں فروخت کیا جا رہا ہے؟

فیسکو پاکستان کی دیگر بجلی کمپنیوں کی طرح شدید بحران کا شکار نہیں ہے۔ یہ کمپنی فیصل آباد، سرگودھا، میانوالی، بھکر، چنیوٹ، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور خوشاب کے 50 لاکھ سے زائد صارفین کو بجلی فراہم کرتی ہے۔ سندھ، بلوچستان یا خیبر پختونخوا کی کمپنیوں کے برعکس، فیسکو میں بجلی چوری اور لائن نقصانات نسبتاً کم ہیں اور بلوں کی وصولی کی شرح بہتر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نجی سرمایہ کار اس کمپنی کو خریدنے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔

حکومت فیسکو نجکاری اس لیے کر رہی ہے کیونکہ ریاست اب توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہی۔ حکومت کا مقصد اس کمپنی کو نجی شعبے کے حوالے کر کے نجی سرمایہ کاری لانا، پرانے گرڈ سسٹم کو جدید بنانا اور عوامی ٹیکس کا پیسہ ضائع کیے بغیر بجلی کی تقسیم کو بہتر بنانا ہے۔

فیسکو نجکاری کا آپ کے بجلی کے بلوں پر کیا اثر ہوگا؟

ہر عام شہری اور صنعت کار کا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ کیا نجکاری کے بعد بجلی کے بل مزید بڑھ جائیں گے؟ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ نجکاری سے نئے مالک کو اپنی مرضی سے بجلی کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار نہیں ملے گا۔ پاکستان بھر میں بجلی کے بنیادی نرخ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ اب بھی نیپرا (NEPRA) ہی کرے گا۔

تاہم، بلوں کی وصولی اور نفاذ کے طریقے میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔ نجی انتظامیہ کا پورا زور بجلی چوری کے خاتمے، سمارٹ میٹرز کی تنصیب اور ٹرانسفارمرز کو بہتر بنانے پر ہوگا۔ وہ صارفین جو وقت پر بل ادا کرتے ہیں، انہیں لوڈ شیڈنگ میں کمی اور وولٹیج میں بہتری کی صورت میں فائدہ ہوگا۔ لیکن بل ادا نہ کرنے والوں یا بجلی چوری کرنے والوں کے خلاف نجی فیسکو انتہائی سخت قانونی کارروائی اور فوری کنکشن کاٹنے کی پالیسی اپنائے گی۔

چین اور ترکی کے سرمایہ کاروں کی دلچسپی

چینی اور ترکی کی کمپنیوں کی دلچسپی یہ ظاہر کرتی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کی بجلی کی مارکیٹ کو منافع بخش سمجھتے ہیں۔ چینی کمپنیاں پہلے ہی سی پیک کے تحت پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ فیسکو جیسی کمپنی خریدنے سے وہ بجلی بنانے سے لے کر بل وصول کرنے تک کا پورا کنٹرول حاصل کر سکیں گی۔

ترکی کی کمپنیاں بلدیاتی اور توانائی کے شعبوں کو جدید بنانے میں مہارت رکھتی ہیں اور وہ فیسکو کو پاکستان کی ایک بڑی مارکیٹ میں داخل ہونے کا بہترین ذریعہ سمجھتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی صنعتی گروپ بھی اس دوڑ میں شامل ہیں تاکہ وہ اپنے کارخانوں کے لیے سستی اور بلاتعطل بجلی کو یقینی بنا سکیں۔

فیسکو کے صارفین کو اب کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ فیسکو کے زیر انتظام علاقوں میں رہتے ہیں یا وہاں کاروبار چلاتے ہیں، تو آپ کو نجی کمپنی کے سخت ماحول کے لیے تیار رہنا چاہیے:

  • اپنے میٹر کی جانچ کریں: یقینی بنائیں کہ آپ کا بجلی کا میٹر بالکل ٹھیک کام کر رہا ہے اور اس میں کوئی گڑبڑ نہیں ہے۔ نجی مالکان بجلی چوری پکڑنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کریں گے۔
  • پرانے واجبات ادا کریں: فیسکو کے ساتھ اپنے تمام بقایا جات اور تنازعات کو فوری حل کریں۔ نجی انتظامیہ چارج سنبھالتے ہی نادہندگان کے کنکشن کاٹنے کی بڑی مہم شروع کرے گی۔
  • نیپرا کی سماعتوں پر نظر رکھیں: نیپرا کی جانب سے فیسکو کے ٹیرف کے حوالے سے ہونے والی عوامی سماعتوں پر نظر رکھیں تاکہ آپ کو نرخوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا پہلے سے علم ہو۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

نجکاری کمیشن اب موصول ہونے والی 12 بولیوں کی جانچ پڑتال کرے گا تاکہ اہل سرمایہ کاروں کو شارٹ لسٹ کیا جا سکے۔ اس عمل میں چند ہفتے لگیں گے۔ اس کے بعد اہل سرمایہ کار فیسکو کے مالیاتی اثاثوں کا جائزہ لیں گے اور اپنی حتمی مالی بولیاں پیش کریں گے۔

اس عمل کے دوران فیسکو کی ملازم یونینز کی جانب سے احتجاج کا بھی امکان ہے، جو ملازمتوں سے نکالے جانے اور پنشن کے خاتمے کے خوف سے نجکاری کی مخالفت کر رہی ہیں۔ حکومت ان یونینز کے ساتھ معاملات کیسے طے کرتی ہے، اسی سے واضح ہوگا کہ فیسکو کا کنٹرول نجی ہاتھوں میں کتنی جلدی منتقل ہوتا ہے۔