جب سوشل میڈیا پر iranian president resignation سے متعلق افواہیں گردش کرتی ہیں تو اسلام آباد کے پالیسی سازوں اور کوئٹہ کے تاجروں کی توجہ فوراً اس طرف چلی جاتی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حال ہی میں قومی ٹیلی ویژن پر آ کر ان تمام دعوؤں کو رد کر دیا ہے کہ وہ اعلیٰ قیادت کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔ ایک عام پاکستانی کے لیے یہ خبر محض سفارتی چہ مگوئیوں تک محدود نہیں۔ تہران ہمارا پڑوسی ملک ہے اور وہاں پیدا ہونے والی سیاسی ہلچل ہماری سرحدی سیکیورٹی، تجارتی منصوبوں اور توانائی کے معاملات پر اثر انداز ہوتی ہے۔

تہران کا استحکام کوئٹہ اور تفتان کے لیے کیوں اہم ہے

پاکستان کی ایران کے ساتھ نو سو کلومیٹر سے زائد طویل سرحد ملتی ہے، جس کا زیادہ تر حصہ بلوچستان سے گزرتا ہے۔ ایران کے اندرونی ڈھانچے میں کسی بھی قسم کا تناؤ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے لیے چیلنج بن جاتا ہے۔ جب حکومت کے خاتمے کی افواہیں پھیلتی ہیں تو تفتان کے مقام پر سرحدی آمدورفت سخت ہو جاتی ہے، جس سے زائرین اور تجارتی مال کی ترسیل متاثر ہوتی ہے۔

  • ایل پی جی، تازہ پھلوں اور دیگر سامان سے بھرے ٹرکوں کو چیکنگ کے نام پر تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
  • سیاسی غغیر یقینی کی فضا میں دونوں طرف کی سیکیورٹی فورسز گشت بڑھا دیتی ہیں۔
  • بلوچستان میں ٹرانسپورٹ یونینز کو سرحدی پابندیوں کی وجہ سے فوری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

تجارتی حقائق اور توانائی کے منصوبے

سیکیورٹی کے علاوہ ایران کے ساتھ ہمارے معاشی تعلقات بھی انتہائی حساس ہیں۔ طویل عرصے سے تاخیر کا شکار پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ ہمیشہ سے بین الاقوامی پابندیوں اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کی زد میں رہا ہے۔ جب ایرانی حکومت کے اندرونی حلقوں میں کھینچ تان کی خبریں آتی ہیں تو دو طرفہ معاشی معاہدوں میں پیش رفت کی امید مزید کم ہو جاتی ہے۔ ایرانی تاجروں کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کرنے والے پاکستانی تاجروں کو پالیسی میں اچانک تبدیلیوں کا خطرہ ہمیشہ مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔

ایک پاکستانی شہری کو کیا کرنا چاہیے

پڑوسی ملک میں حکومتی تبدیلیوں سے متعلق سوشل میڈیا کی سنسنی خیز ویڈیوز دیکھ کر گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ کا تعلق بلوچستان کے راستے ہونے والی تجارت سے ہے تو افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے وزارتِ خارجہ کے باضابطہ بیانات پر نظر رکھیں۔

  • مال بردار ٹرک روانہ کرنے سے پہلے تفتان بارڈر پر کلیئرنگ ایجنٹس سے صورتحال کی تصدیق ضرور کریں۔
  • iranian president resignation سے متعلق غیر مصدقہ دعوؤں کو نظر انداز کریں جب تک کہ مستند ادارے ان کی تصدیق نہ کریں۔
  • وزارتِ تجارت کی جانب سے دو طرفہ تجارت سے متعلق جاری ہونے والے نوٹیفیکیشنز پر توجہ دیں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

اسلام آباد اور تہران کے درمیان آئندہ اعلیٰ سطحی رابطوں پر نظر رکھیں، جس سے اندازہ ہوگا کہ معاشی تعاون کس سمت جا رہا ہے۔ اگر تہران میں صورتحال مستحکم رہتی ہے تو سرحدی تجارت اپنی معمول کی رفتار پر واپس آ جائے گی۔ ایرانی صدر کے عہدے یا سپریم لیڈر کے دفتر سے متعلق مستقبل کی کوئی بھی خبر ہی خطے کے استحکام کا اصل پیمانہ ہوگی۔