پاکستان میں حال ہی میں متعارف کرائی گئی نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا مقصد ملک میں افرادی قوت کے منظرنامے کو تبدیل کرنا ہے، جس میں نوجوان پیشہ ور افراد اور کاروباری افراد کے لیے مخصوص کوٹے اور مالی مراعات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس اقدام کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہی قائداعظم کے پاکستان کی تعمیر کی بنیاد ہے۔ ایک عام پاکستانی کے لیے یہ پالیسی محض ایک حکومتی اعلان نہیں ہے، بلکہ یہ لیبر فورس میں خواتین کی شمولیت بڑھانے اور نئے کاروبار شروع کرنے والوں کے لیے رکاوٹیں کم کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے اہم نکات
اگر آپ یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ پالیسی آپ کے کیریئر یا کاروبار پر کیسے اثر انداز ہوگی، تو حکومت نے چند ٹھوس اہداف مقرر کیے ہیں:
- خواتین کے لیے 35 فیصد کوٹہ: قومی لیبر فورس میں خواتین کی پیشہ ورانہ شعبوں میں نمائندگی یقینی بنانے کے لیے 35 فیصد کوٹہ لازمی قرار دیا جائے گا۔
- اسٹارٹ اپس کے لیے مالی امداد: مختص کردہ فنڈز کا 10 فیصد حصہ خاص طور پر نوجوانوں کے اسٹارٹ اپس کے لیے فراہم کیا جائے گا تاکہ کاروباری کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔
- تعلیمی انضمام: پالیسی میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ طلبا کی مہارتوں کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ فوری طور پر روزگار کے قابل ہو سکیں۔
یہ جاب مارکیٹ کے لیے کیوں اہم ہے؟
کئی برسوں سے پاکستان ایک ایسے نوجوان طبقے کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے جو نجی شعبے کی ضروریات سے کٹا ہوا ہے۔ 35 فیصد خواتین کوٹہ لاگو کر کے حکومت کارپوریٹ بھرتیوں میں زیادہ شمولیت کا اشارہ دے رہی ہے۔ اگر آپ ایک پیشہ ور خاتون ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ان کمپنیوں میں ملازمت کے مواقع بڑھ سکتے ہیں جو سرکاری معیارات کی تعمیل کریں گی۔
اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے مالی امداد کا وعدہ سب سے اہم ہے۔ اگرچہ فنڈز کے حصول کے لیے درخواست کا طریقہ کار ابھی حتمی شکل میں آنا باقی ہے، لیکن یہ پالیسی حکومتی سطح پر سیڈ فنڈنگ (seed funding) کا ایک فریم ورک فراہم کرتی ہے جس کی پہلے شدید کمی تھی۔
آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟
فی الحال یہ پالیسی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ آپ کو توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ ملازمتیں یا گرانٹس فوری طور پر دستیاب ہو جائیں گی۔ تاہم، آپ کو خود کو تیار رکھنے کے لیے درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
- سرکاری پورٹلز پر نظر رکھیں: پالیسی دستاویز اور درخواست کے رہنما خطوط کے اجرا کے لیے وزیراعظم آفس اور وزارت منصوبہ بندی کی ویب سائٹس کو باقاعدگی سے چیک کریں۔
- اپنے بزنس پلان کو حتمی شکل دیں: اگر آپ اسٹارٹ اپ فنڈنگ کے خواہشمند ہیں، تو یقینی بنائیں کہ آپ کا کاروباری آئیڈیا دستاویزی شکل میں موجود ہو، کیونکہ حکومتی گرانٹس کے لیے شفافیت ضروری ہے۔
- مہارتیں بڑھائیں: چونکہ پالیسی میں تعلیم کو مارکیٹ کی ضروریات سے جوڑنے پر زور دیا گیا ہے، اس لیے ایسی سرٹیفیکیشنز پر توجہ دیں جن کی مانگ زیادہ ہے، جیسے ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ یا فنی مہارتیں۔
آگے کیا ہوگا؟
اس پالیسی کا اصل امتحان اس کا نفاذ ہوگا۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ نجی شعبے میں 35 فیصد کوٹہ کیسے لاگو ہوتا ہے اور کیا حکومت کمپنیوں کو ان اہداف کے حصول کے لیے ٹیکس مراعات دیتی ہے۔ اگر حکومت نے اسٹارٹ اپ فنڈنگ کے لیے شفاف طریقہ کار وضع نہ کیا، تو یہ اقدام محض ایک علامتی اعلان بن کر رہ جائے گا۔
