نیا دستخط شدہ پاکستان ہانگ کانگ کسٹمز معاہدہ تجارتی بنیادوں پر ہونے والی منی لانڈرنگ اور انڈر انوائسنگ کے خلاف سخت کارروائی کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس کا براہ راست اثر مقامی مارکیٹوں میں درآمدی الیکٹرانکس، موبائل اسیسریز اور ملبوسات کی قیمتوں پر پڑے گا۔ جمعہ، 24 مئی 2024 کو اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ ایک ورچوئل تقریب کے دوران اس معاہدے پر دستخط کیے گئے، جو باہمی انتظامی مدد، معلومات کے تبادلے اور مشکوک کھیپوں کی مشترکہ نگرانی کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

ہانگ کانگ پاکستان کی درآمدات، خاص طور پر الیکٹرانکس، مشینری اور خام مال کے لیے سب سے بڑے ٹرانزٹ ہبز میں سے ایک ہے۔ دہائیوں سے، اس تجارت کا ایک بڑا حصہ انڈر انوائسنگ کے ذریعے مکمل ٹیکس سے بچتا رہا ہے—جہاں درآمد کنندگان کسٹمز ڈیوٹی سے بچنے کے لیے اشیاء کی قیمت ان کی اصل لاگت سے بہت کم ظاہر کرتے ہیں۔ اس نئے معاہدے کے تحت، ایف بی آر اب براہ راست ہانگ کانگ کے حکام سے اصل انوائس کی تصدیق کر سکے گا۔

معاہدے کے اہم نکات

- دستخط کی تاریخ: جمعہ، 24 مئی 2024۔
- اہم ادارے: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) پاکستان اور کسٹمز اینڈ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ ہانگ کانگ۔
- بنیادی مقصد: انڈر انوائسنگ کا خاتمہ، مشکوک کارگو کی نگرانی اور اسمگلنگ کی روک تھام۔
- سرکاری پورٹل: درآمد کنندگان درآمد و برآمد کے قوانین اور فائلنگ کے طریقہ کار کو ایف بی آر کے سرکاری پورٹل fbr.gov.pk پر دیکھ سکتے ہیں۔

پاکستان ہانگ کانگ کسٹمز معاہدہ اور قیمتوں پر اس کے اثرات

اگر آپ کراچی کے صدر یا لاہور کے ہال روڈ جیسے بڑے تجارتی مراکز سے درآمدی موبائل اسیسریز، لیپ ٹاپ کے پرزے یا کپڑے خریدتے ہیں، تو غالباً آپ وہ سامان خرید رہے ہیں جو ہانگ کانگ کے راستے پاکستان پہنچا ہے۔ ماضی میں، ان اشیاء کی قیمتیں کسٹمز پر بہت کم دکھائی جاتی تھیں۔ جب ایف بی آر ہانگ کانگ کسٹمز سے حاصل کردہ ریئل ٹائم ڈیٹا کا استعمال شروع کرے گا، تو ان درآمدات پر عائد ٹیکس ان کی اصل مارکیٹ ویلیو کے مطابق بڑھ جائے گا۔

اس کا مطلب ہے کہ قانونی طور پر یہ سامان درآمد کرنے کی لاگت میں اضافہ ہوگا۔ درآمد کنندگان اب جعلی انوائسز کا سہارا نہیں لے سکیں گے۔ اگرچہ یہ پاکستان کے قومی خزانے کے لیے ایک بہترین خبر ہے، لیکن اس کے نتیجے میں صارفین کے لیے الیکٹرانکس اور درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں عارضی اضافہ ہو سکتا ہے۔

انڈر انوائسنگ اور تجارتی منی لانڈرنگ کا خاتمہ

ٹیکس وصولی کے علاوہ، یہ معاہدہ تجارتی بنیادوں پر ہونے والی منی لانڈرنگ (TBML) کو نشانہ بناتا ہے۔ سالوں سے، کچھ تاجر پاکستان سے غیر قانونی طور پر امریکی ڈالر باہر بھیجنے کے لیے اوور انوائسنگ، یا ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے ادائیگی کر کے سامان لانے کے لیے انڈر انوائسنگ کا سہارا لیتے رہے ہیں۔

مشکوک کھیپوں پر انٹیلی جنس کے تبادلے اور مشترکہ نگرانی کے ذریعے، دونوں ممالک کے کسٹمز ادارے رقم اور سامان کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکیں گے۔ اگر ہانگ کانگ سے روانہ ہونے والے کنٹینر کی مالیت 50,000 ڈالر ظاہر کی گئی ہو لیکن کراچی پہنچنے پر اسے 10,000 ڈالر ظاہر کیا جائے، تو سسٹم فوری طور پر الرٹ جاری کر دے گا۔ اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر سے ڈالر کے غیر قانونی اخراج کو روکنے میں مدد ملے گی۔

پاکستانی درآمد کنندگان اور کاروباری اداروں کو اب کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ ایک قانونی درآمدی کاروبار چلاتے ہیں، تو یہ معاہدہ آپ کے لیے سودمند ثابت ہوگا۔ ایماندار تاجر جو مکمل کسٹمز ڈیوٹی ادا کرتے ہیں، طویل عرصے سے ان غیر قانونی تاجروں کی وجہ سے نقصان اٹھا رہے تھے جو انڈر انوائسنگ کرتے ہیں۔ اب آپ کو درج ذیل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:

  • سپلائی چین کا آڈٹ کریں: یقینی بنائیں کہ ہانگ کانگ اور چین میں آپ کے سپلائرز ایسی انوائسز جاری کر رہے ہوں جو بینکنگ ٹرانزیکشنز (ایل سی یا بینک کنٹریکٹ) سے مطابقت رکھتی ہوں۔
  • تھرڈ پارٹی انوائسنگ سے بچیں: ایف بی آر کے پاس اب ہانگ کانگ کسٹمز سے براہ راست کارگو کی اصل قیمت کی تصدیق کا اختیار ہوگا، اس لیے کسی تیسرے فریق کی انوائس کا استعمال انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔
  • ریکارڈ درست رکھیں: ادائیگیوں کے ثبوت، شپنگ بلز اور ڈیکلریشنز کا مکمل ریکارڈ رکھیں، کیونکہ ایف بی آر نئے ڈیٹا کی مدد سے پوسٹ کلیئرنس آڈٹ میں اضافہ کرنے جا رہا ہے۔

مستقبل کی صورتحال اور پورٹ کلیئرنس

اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ دونوں کسٹمز محکموں کے آئی ٹی سسٹمز کو کتنی جلدی ایک دوسرے سے منسلک کیا جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں پاکستان کسٹمز (WeBOC) اور ہانگ کانگ کسٹمز کے درمیان الیکٹرانک ڈیٹا انٹرچینج (EDI) سسٹم کے نفاذ پر نظر رکھنی ہوگی۔

آنے والے مہینوں میں کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور لاہور و اسلام آباد کے ایئر کارگو ٹرمینلز پر سخت چیکنگ متوقع ہے۔ اگرچہ اس سے مشکوک کھیپوں کی کلیئرنس میں عارضی تاخیر ہو سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ تصدیق شدہ اور ایماندار درآمد کنندگان کے لیے گرین چینل کلیئرنس کی راہ ہموار کرے گا۔