پاکستان اور ایران نے دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد سالانہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔ 5 اگست 2026 کو اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی وفد کے درمیان پاک ایران جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی کے دسویں اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا، جو عام شہریوں کی جیب اور روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر انداز ہو گا۔
مذاکرات کا سب سے اہم نکتہ دونوں ممالک کی سرحدوں کو چوبیس گھنٹے کھلا رکھنا ہے، جس سے سرحد پار ٹرکوں کی طویل قطاریں اور تاخیر ختم ہو جائے گی۔ لاجسٹکس کی بہتری اور کسٹم کے طریقہ کار کو یکساں بنانے سے اشیا کی ترسیل تیز ہو گی، جس سے مقامی مارکیٹ میں اشیائے خوردونضر اور درآمدی اشیا کی قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے۔
بارڈر چوبیس گھنٹے کھولنے کی اصل اہمیت
اگر آپ کا تعلق تجارت سے ہے تو آپ جانتے ہیں کہ پہلے سرحدی گزرگاہیں دن کے وقت بند رہنے کی وجہ سے تجارتی قافلوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ چوبیس گھنٹے آپریشنز شروع ہونے سے ٹرانزٹ کے اوقات میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں نے فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) کے مذاکرات کو بھی آگے بڑھایا ہے، جس سے آئندہ دنوں میں کسٹم ڈیوٹی میں کمی کی توقع ہے۔
کاروبار اور عام صارفین پر اس کے اثرات
اس فیصلے سے درآمد کنندگان کے اخراجات کم ہوں گے کیونکہ کسٹم کلیئرنس کا وقت ہفتوں سے کم ہو کر دنوں پر آ جائے گا۔
- تیز رفتار ترسیل: بارڈر چوبیس گھنٹے کھلنے سے شاہراہوں پر ٹرکوں کا رش اور انتظار ختم ہو گا۔
- ٹیکس میں ریلیف: ایف ٹی اے مذاکرات سے صنعتی اور زرعی اشیا پر ڈیوٹی کم ہونے کا امکان ہے۔
- قانونی تجارت: سمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہو گی اور قانونی ذرائع سے تجارت کو فروغ ملے گا۔
آگے کیا ہوگا؟
اب تمام نگاہیں وزارتِ تجارت اور فیڈرل بورڈ آف ریوینو (FBR) پر ہیں جو ان نئے سرحدی اصولوں اور ایس او پیز کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔ تاجروں کو مشورہ ہے کہ وہ نئی کسٹم پالیسیوں کا بغور مطالعہ کریں تاکہ سرحدی گزرگاہوں پر کسی قسم کی تاخیر کا سامنا نہ ہو۔
