سعودی عرب سے خام تیل لانے والے دو بڑے افریمیکس کلاس آئل ٹینکرز بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستے میں حوثی ناکہ بندی کے باوجود بحفاظت پاکستان کی طرف اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت اور ایندھن کی فراہمی کے تناظر میں اس پیش رفت کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں فی الحال کسی قسم کی ہنگامی قلت کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔
جب بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں پر کشیدگی بڑھتی ہے تو درآمدی ممالک کو ترسیل میں تاخیر اور بیمہ اخراجات بڑھنے کا ڈر ہوتا ہے۔ پاکستان اپنی تیل کی بیشتر ضروریات کے لیے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر انحصار کرتا ہے۔ بحیرہ احمر کا یہ تجارتی راستہ ہماری معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ درآمدی خام تیل اسی راستے سے ہمارے بندرگاہوں تک پہنچتا ہے۔
باب المندب کا راستہ ہمارے لیے کیوں اہم ہے؟
ہماری ریفائنریز کو مسلسل خام تیل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ملک بھر میں موٹر سائیکل، کاریں اور پبلک ٹرانسپورٹ چلتی رہیں۔ اگر بحیرہ احمر میں جہازوں کی آمدورفت رک جائے تو تیل لانے والے بحری جہازوں کو افریقہ کے طویل راستے سے چکر کاٹ کر آنا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ کرایوں اور مال برداری کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
ان دونوں جہازوں کے بحفاظت گزرنے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ تجارتی جہاز اب بھی فعال ٹریکنگ سسٹمز کے ساتھ اس خطے سے گزر سکتے ہیں۔ اس کا براہ راست فائدہ یہ ہے کہ آئل ریفائنریز کو سستا یا وقت پر خام تیل ملتا رہے گا اور تیل و گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
مہنگائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر اثرات
پاکستان میں توانائی کی قیمتوں کا براہ راست تعلق ہر عام چیز کی مہنگائی سے جڑا ہوا ہے۔ اگر تیل بروقت اور مناسب داموں نہ پہنچے تو ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار اور اشیائے خوردونوس کی نقل و حمل مہنگی ہو جاتی ہے۔
توانائی کی اس نقل و حمل سے جڑے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
- پندرہ روزہ بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام رہتا ہے۔
- ہنگامی بنیادوں پر مہنگے متبادل ایندھن کے استعمال سے بچا جاتا ہے۔
- ملک کے قومی شاہراہوں پر سامان کی ترانسپورٹ کے کرایے قابو میں رہتے ہیں۔
- تاخیر کے باعث لگنے والے اضافی بحری جرمانے سے قومی خزانہ بچ جاتا ہے۔
آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟
سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں پر کان دھر کر پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں لگانے یا فیٹرول کی ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں۔ ملکی سطح پر تیل کی سپلائی لائنز مکمل طور پر فعال ہیں اور ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جب بھی قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ ہو، صرف اوگرا یا سرکاری اعلامیوں پر بھروسہ کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آئندہ دنوں میں بین الاقوامی سطح پر بحری جہازوں کے بیمہ نرخوں اور بحیرہ احمر کی سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھیں۔ حکومت کی جانب سے پندرہ روزہ قیمتوں کے اعلان کا انتظار کریں تاکہ معلوم ہو سکے کہ عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں کا مقامی مارکٹس پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو مستقبل میں درآمدی شیڈول میں کچھ تبدیلی آ سکتی ہے۔
