وفاقی حکومت کی جانب سے 6.6 ارب روپے کی لاگت سے 30 جدید ترین bulletproof vehicles in pakistan درآمد کرنے کے فیصلے نے معاشی بحران کے دوران سرکاری اخراجات پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیر کے روز اس ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) کی منظوری دی، جس کا مقصد شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے آئندہ سربراہی اجلاس کے لیے آنے والے غیر ملکی مہمانوں کو سیکیورٹی فراہم کرنا ہے۔
جہاں حکومت اسے ایک ناگزیر سفارتی ضرورت قرار دے رہی ہے، وہاں ریکارڈ مہنگائی اور بھاری ٹیکسوں تلے دبے عام شہری یہ سوال کر رہے ہیں کہ پروٹوکول اور سیکیورٹی گاڑیوں پر اتنی بڑی رقم کیوں خرچ کی جا رہی ہے۔
اس فیصلے کے اہم حقائق درج ذیل ہیں:
- کل منظور شدہ بجٹ: 6.6 ارب روپے (ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ)
- گاڑیوں کی تعداد: 30 انتہائی محفوظ بلٹ پروف گاڑیاں
- بنیادی مقصد: ایس سی او سمٹ کے لیے پروٹوکول اور سیکیورٹی
- منظور کرنے والی اتھارٹی: وزیر خزانہ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)
- فی گاڑی اوسط لاگت: کسٹم ڈیوٹی اور سیکیورٹی کلیئرنس سمیت تقریباً 22 کروڑ روپے (220 ملین روپے)
پاکستان میں بلٹ پروف گاڑیوں پر ٹیکس دہندگان کا اتنا زیادہ پیسہ کیوں خرچ ہوتا ہے؟
یہ سمجھنے کے لیے کہ 30 گاڑیوں کی لاگت 6.6 ارب روپے تک کیسے پہنچ گئی، ہمیں سیکیورٹی گاڑیوں کی مخصوص نوعیت کو سمجھنا ہوگا۔ پاکستان میں bulletproof vehicles in pakistan کی خریداری اتنی سادہ نہیں ہے جتنا کہ کسی شو روم سے عام لگژری گاڑی خریدنا۔ یہ گاڑیاں عام طور پر براہ راست بین الاقوامی مینوفیکچررز سے درآمد کی جاتی ہیں یا عالمی سطح پر تصدیق شدہ آرمرنگ کمپنیوں سے تیار کروائی جاتی ہیں۔
ہر گاڑی کو بی 6 یا بی 7 بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ گاڑی کا شیشہ اور باڈی ملٹری گریڈ رائفلوں کی گولیوں اور گرینیڈ دھماکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
مزید برآں، درآمدی ڈیوٹی، لگژری ٹیکس اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات اس قیمت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ چونکہ پاکستان کی مقامی آٹو انڈسٹری ملٹری گریڈ کی گاڑیاں تیار نہیں کرتی، اس لیے اس خریداری کے لیے قیمتی غیر ملکی زر مبادلہ استعمال ہوگا، جس کی منظوری اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے لی جاتی ہے۔
سفارتی ضرورت بمقابلہ معاشی حقیقت
ایس سی او سمٹ جیسے بین الاقوامی ایونٹس کی میزبانی کے لیے پاکستان کو آنے والے سربراہان مملکت اور وزرائے خارجہ کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنا ہوتی ہے۔ بین الاقوامی سفارتی پروٹوکول کے تحت، میزبان ملک اپنے مہمانوں کی حفاظت کا قانونی طور پر ذمہ دار ہوتا ہے۔ سیکیورٹی میں کوئی بھی کوتاہی پاکستان کے عالمی وقار اور خارجہ پالیسی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
تاہم، 6.6 ارب روپے کی اس گرانٹ کا وقت عام ٹیکس دہندگان کے لیے مایوس کن ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اس وقت ٹیکس اہداف پورے کرنے کے لیے تنخواہ دار طبقے اور تاجروں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ دوسری طرف، حکومت آئی ایم ایف کے مطالبات کے تحت مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے عوامی ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ میں کٹوتیاں کر رہی ہے۔
ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) کے ذریعے فنڈز کی منظوری دے کر حکومت پارلیمنٹ میں بجٹ پر ہونے والی بحث سے بچ جاتی ہے۔ اس سے کابینہ کو سال کے وسط میں عوامی فلاح و بہبود کے بجائے پروٹوکول سیکیورٹی کے لیے اربوں روپے منتقل کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔
ایس سی او سمٹ کے بعد ان گاڑیوں کا کیا ہوگا؟
غیر ملکی مہمانوں کی روانگی کے بعد یہ 30 بلٹ پروف گاڑیاں ضائع نہیں ہوں گی، لیکن ان سے عوام کو بھی کوئی فائدہ پہنچنے کی امید نہیں ہے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسی گاڑیوں کو وفاقی کابینہ کے سینٹرل پول میں شامل کر دیا جاتا ہے۔
یہ گاڑیاں بعد میں صدر، وزیر اعظم، وفاقی وزراء اور اعلیٰ سیکیورٹی حکام کے استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ اگرچہ اس سے مستقبل میں نئی گاڑیوں کی خریداری کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، لیکن ان گاڑیوں کی دیکھ بھال اور پیٹرول کا مستقل خرچہ قومی خزانے پر بوجھ بن جاتا ہے۔ بلٹ پروف گاڑیاں عام گاڑیوں سے کہیں زیادہ وزنی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کا پیٹرول کا خرچہ انتہائی زیادہ ہوتا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے اور آگے کیا دیکھنا چاہیے
ایک شہری اور ٹیکس دہندہ کے طور پر، آپ اس خریداری کو روک تو نہیں سکتے، لیکن آپ اس بات پر نظر رکھ سکتے ہیں کہ عوامی فنڈز کیسے استعمال ہو رہے ہیں۔
سب سے پہلے، آنے والے بجٹ ریویو پر نظر رکھیں کہ آیا اس 6.6 ارب روپے کے اخراجات کو متوازن کرنے کے لیے حکومت اپنے دیگر اخراجات میں کوئی کمی کرتی ہے یا نہیں۔
دوسرا، وزارت خارجہ یا کیبنٹ ڈویژن کے آفیشل ٹینڈرز پر نظر رکھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون سی گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں اور کیا مقامی آرمرنگ کمپنیوں کو کوئی ذیلی معاہدہ دیا گیا ہے تاکہ کچھ سرمایہ ملک کے اندر ہی رہے۔
آخر میں، اپنے حلقے کے نمائندوں سے مطالبہ کریں کہ سمٹ کے بعد ان گاڑیوں کے استعمال کو شفاف بنایا جائے اور انہیں کسی مخصوص افسر شاہی کو تحفے میں دینے کے بجائے سرکاری پول تک محدود رکھا جائے۔
