اگرچہ بین الاقوامی مبصرین اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر جاری کردہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ ایرانی دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ تجارتی جہازوں کے لیے بدستور کھلا ہے اور بحری آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے، لیکن اس کے معاشی اثرات پاکستان تک براہِ راست محسوس ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکہ، ایران اور عمان اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری معاہدے کے بالکل قریب ہیں۔ اس ممکنہ فارمولے کے تحت شمالی راستے پر ایران جبکہ جنوبی راستے پر عمان کا کنٹرول متوقع ہے۔ تاہم تہران نے امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ جاری بات چیت صرف دوطرفہ نوعیت کی ہے اور اس کا امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری طرف، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر نہ کھولا گیا تو ایران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو اپنی توانائی کی زیادہ تر درآمدات کے لیے خلیجی راستوں پر انحصار کرتا ہے، یہ کشیدگی انتہائی تشویشناک ہے۔
عبوری معاہدے کی تفصیلات اور زمینی حقائق
آبنائے ہرمز کی جغرافیاتی اہمیت دنیا بھر کی توانائی کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق مجوزہ عبوری انتظامات میں شمالی راستے کا انتظامی کنٹرول ایران کے پاس جبکہ جنوبی راستے کی نگرانی عمان کے پاس رہنے کا امکان ہے۔ اس کے باوجود سیاسی ڈیڈلاک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ تہران کا اصرار ہے کہ مسقط کے ساتھ اس کے رابطے دوطرفہ ہیں اور وہ واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست میز پر بیٹھنے کے لیے تیار نہیں۔ اس مؤقف کی وجہ سے بحری جہازوں کی انشورنس اور فریٹ چارجز میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ پاکستانی معیشت کے لیے یہ حالات براہِ راست درآمدی بل اور مہنگائی کی لہر کو جنم دیتے ہیں۔
پاکستان کی معیشت اور توانائی کے شعبے پر اثرات
پاکستان اپنی ضرورت کا بیشتر پٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) خلیجی ممالک سے منگواتا ہے، جن کی ترسیل اسی سمندری راستے سے ہوتی ہے۔ جب بھی اس آبی گزرگاہ پر بحران پیدا ہوتا ہے، پاکستان میں اس کے اثرات فوری طور پر ظاہر ہوتے ہیں:
- تیل کی درآمدی لاگت میں اضافہ: بحری خطرات بڑھنے سے شپنگ کمپنیاں اضافی انشورنس چارجز عائد کرتی ہیں، جس سے کراچی اور پورٹ قاسم پر پہنچنے والا خام تیل مہنگا ہو جاتا ہے۔
- مہنگائی میں اضافہ: پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرائے، سبزیوں کی قیمتیں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں۔
- بجلی کے ٹیرف پر دباؤ: ایل این جی کی درآمد میں کسی بھی رکاوٹ سے بجلی کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، جس کا بوجھ نیپرا کی منظوری سے صارفین پر ڈالا جاتا ہے۔
آپ کو بحیثیت پاکستانی کیا کرنا چاہیے؟
عالمی سفارت کاری آپ کے بس میں نہیں، لیکن آپ اپنے ذاتی بجٹ اور کاروبار کو سنبھال سکتے ہیں۔ حکومت پاکستان اور اوگرا کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری ہونے والی ایندھن کی قیمتوں پر نظر رکھیں۔ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اپنے ماہانہ گھریلو بجٹ اور سفری اخراجات کو اسی حساب سے منظم کریں۔ تاجر برادری اور درآمد کنندگان کو چاہیے کہ وہ شپنگ کے متبادل اور لاگت کے رجحانات پر کڑی نظر رکھیں تاکہ اچانک مالی جھٹکوں سے بچا جا سکے۔
