تھائی لینڈ کے ایک فٹبال میدان پر پیش آنے والا دلخراش آسمانی بجلی کا حادثہ پاکستان بھر کے مقامی کھیلوں کے میدانوں کے لیے ایک اہم انتباہ ہے۔ منگل کے روز جنوبی تھائی لینڈ کے شہر سنگائی کولوک کے سانتی پھاپ اسٹیڈیم میں گولوک ایف اے کپ کا ایک میچ جاری تھا جب اچانک آسمانی بجلی آ گرا۔ اس خوفناک حادثے کے نتیجے میں یالا ایف سی کے لیے حال ہی میں معاہدہ کرنے والے کھلاڑی سوفوان آوائے جاں بحق ہو گئے جبکہ دیگر 12 کھلاڑی زخمی ہو گئے۔ کیمرے میں محفوظ ہونے والے اس واقعے نے دنیا بھر میں کھیل کے دوران موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے انتظامات پر بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ پاکستان کے کراچی، لاہور یا پشاور جیسے شہروں میں فٹبال میچوں کے دوران اس نوعیت کے آسمانی بجلی کے خطرات کم زیر بحث آتے ہیں، لیکن ہمارے مقامی میدانوں میں موسم کی تبدیلی کے وقت میچ روکنے کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں۔
پاکستانی فٹبال گراؤنڈز میں حفاظتی انتظامات کی حقیقت
اگر آپ پاکستان میں کلب فٹبال کھیلتے ہیں یا مقامی ٹورنامنٹس دیکھتے ہیں، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کھلاڑیوں کی حفاظت کا دارومدار صرف قسمت پر ہوتا ہے۔ ملک بھر کے یونیورسٹی گراؤنڈز، مقامی کلب میچز اور غیر سرکاری ٹورنامنٹس میں موسمیاتی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی ایس او پیز موجود نہیں۔ کراچی کے کے ایم سی اسٹیڈیم سے لے کر اسلام آباد کے کھلے میدانوں تک، جب مون سون کی بارشیں یا اچانک طوفان آتے ہیں تو ریفری اور منتظمین کھیل جاری رکھتے ہیں جب تک کہ بارش خود میچ روکنے پر مجبور نہ کر دے۔ آسمانی بجلی جیسے خطرناک عناصر کے بارے میں کھلاڑیوں کو کوئی پیشگی تربیت یا انتباہ نہیں دیا جاتا۔
تھائی لینڈ کے واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے
سنگائی کولوک کے سانتی پھاپ اسٹیڈیم میں پیش آنے والا یہ سانحہ بتاتا ہے کہ غفلت کسی بھی وقت کسی نوجوان کھلاڑی کی جان لے سکتی ہے۔ آسمانی بجلی اکثر طوفانی بادلوں کے اردگرد کئی کلومیٹر کے دائرے میں گر سکتی ہے، اس لیے کھلے آسمان کے نیچے دھوپ یا ہلکی بادلوں میں بھی خطرہ برقرار رہتا ہے۔ تھائی حکام اور مقامی کلب اب اس بات کا جواب دے رہے ہیں کہ خراب موسم کے باوجود میچ کیوں جاری رکھا گیا۔ پاکستانی اسپورٹس ایڈمنسٹریٹرز کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ اپنے مقامی کھلاڑیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے سے پہلے حفاظتی اصول لازمی بنائے جائیں۔
اب آپ کو کیا قدم اٹھانا چاہیے
اگر آپ کسی مقامی فٹبال کلب سے جڑے ہیں، میچ منعقد کرتے ہیں یا خود کھیلتے ہیں، تو انتظامیہ کی طرف دیکھنے کے بجائے فوری طور پر خود احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
- میچ کھیلنے سے پہلے موبائل ایپ پر موسمیاتی صورتحال اور طوفان کے امکانات کا جائزہ لیں۔
- اصول بنائیں کہ گرج چمک کی آواز آتے ہی کھلاڑی فوراً کھلے میدان سے باہر محفوظ سرپوش کے نیچے چلے جائیں۔
- بارش یا طوفان کے دوران دھاتی گول پوسٹس، فلڈ لائٹ کے کھمبوں اور تاروں کی باڑ کے قریب بالکل کھڑے نہ ہوں۔
آنے والے دنوں میں اس بات پر نظر رکھیں کہ کیا پاکستان فٹبال فیڈریشن یا صوبائی اسپورٹس بورڈز مقامی میچوں کے لیے کوئی نئے حفاظتی اصول جاری کرتے ہیں۔ میچ کا انعقاد اہم سہی، لیکن کسی بھی کھلاڑی کی جان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
