اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی تقریریں اکثر عالمی سطح پر سرخیاں بٹورتی ہیں، لیکن ان کا حالیہ trump strait of hormuz دعویٰ پاکستان کی نازک معیشت کے لیے سنگین اور براہ راست نتائج کا حامل ہے۔
جنوبی کیرولائنا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران سابق امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو "امریکی علاقہ" قرار دے رہا ہے اور بحری ناکہ بندی کے ذریعے اسے کنٹرول کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے بمباری سمیت فوجی کارروائی کا اشارہ دیا، جبکہ ساتھ ہی ایک سفارتی معاہدے کے امکان کو بھی کھلا رکھا۔
ایک عام پاکستانی شہری کے لیے یہ صرف دور دراز کی سیاست نہیں ہے۔ چونکہ پاکستان اپنی ایندھن کی ضروریات کے لیے مشرق وسطیٰ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اس لیے اس اہم بحری گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی براہ راست آپ کے گھر کے بجٹ پر اثر انداز ہوتی ہے۔
اہم حقائق جو آپ کو معلوم ہونے چاہئیں:
- جغرافیہ: آبنائے ہرمز عمان اور ایران کے درمیان ایک تنگ بحری گزرگاہ ہے۔ یہ امریکی علاقہ نہیں ہے، بلکہ دنیا بھر میں تیل کی نقل و حمل کے لیے سب سے اہم ترین راستہ ہے۔
- پاکستان کا انحصار: پاکستان کی خام تیل اور ایل این جی (LNG) کی درآمدات کا 50 فیصد سے زائد حصہ اسی آبنائے سے گزر کر آتا ہے۔
- قیمتوں کا خطرہ: اس آبنائے میں کسی بھی فوجی تنازعے یا ناکہ بندی سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں فوری طور پر بڑھ جائیں گی، جس سے اوگرا (OGRA) مقامی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہو جائے گا۔
- علاقائی سلامتی: پاکستان کی ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ پڑوس میں فوجی کشیدگی علاقائی استحکام اور طویل عرصے سے زیر التوا پاک-ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق دعوے کی حقیقت
اس trump strait of hormuz دعوے کو سمجھنے کے لیے جغرافیہ پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ یہ آبنائے خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی ایک تنگ گزرگاہ ہے۔ اپنے سب سے تنگ مقام پر اس کی چوڑائی صرف 33 کلومیٹر ہے۔ اس کے شمال میں ایران اور جنوب میں عمان واقع ہے، جس کی وجہ سے ٹرمپ کا اسے "امریکی علاقہ" قرار دینا قانونی اور جغرافیائی طور پر بالکل غلط ہے۔
تاہم، بحرین میں مقیم امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا عالمی تجارت کو محفوظ بنانے کے لیے ان پانیوں میں باقاعدگی سے گشت کرتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے "بحری ناکہ بندی" کی بات ایک جارحانہ امریکی فوجی حکمت عملی کی نشان دہی کرتی ہے۔ اگر امریکہ اس آبنائے کو بلاک کرنے یا ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو ایران ماضی میں اس گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کرنے کی دھمکیاں دے چکا ہے۔
آبنائے ہرمز پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟
پاکستان خلیج فارس میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کے لیے انتہائی حساس ہے۔ ہم اپنی پٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کا بڑا حصہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت سے درآمد کرتے ہیں۔ ان تمام ممالک سے آنے والے بحری جہازوں کو کراچی پورٹ یا پورٹ قاسم پہنچنے کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنا پڑتا ہے۔
اگر یہ بحری راستہ بند ہوتا ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی فوری طور پر گر جائے گی۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے۔ پاکستان، جو پہلے ہی آئی ایم ایف (IMF) پروگرام کے تحت سخت معاشی دباؤ کا شکار ہے اور جس کے پاس غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر انتہائی کم ہیں، اتنے بڑے درآمدی بل کا بوجھ برداشت نہیں کر سکے گا اور روپے کی قدر مزید گر جائے گی۔
اس صورتحال میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ چونکہ نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے سے روزمرہ کی اشیاء مہنگی ہوتی ہیں، اس لیے کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں مہنگائی کا نیا طوفان آ جائے گا۔
پاکستان کے لیے تین بڑے خطرات: پٹرول، ترسیلات زر اور سرحد
آبنائے ہرمز میں کوئی بھی تنازعہ پاکستانیوں کو تین طرح سے متاثر کرے گا:
- بجلی کے بھاری بل: پاکستان کا پاور سیکٹر درآمدی ایل این جی اور فرنس آئل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ جب عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو نیپرا (NEPRA) فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FCA) کے ذریعے یہ بوجھ صارفین پر ڈال دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بجلی کے بلوں میں فوری اضافہ ہو جائے گا۔
- ترسیلات زر کو خطرہ: لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں مقیم ہیں جو ہر ماہ اربوں ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں۔ کسی بھی علاقائی جنگ کی صورت میں ان کی ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں، جس سے پاکستان میں ڈالرز کی آمد شدید متاثر ہوگی۔
- سرحدی عدم استحکام: ایران کے ساتھ طویل سرحد ہونے کی وجہ سے پڑوس میں کوئی بھی فوجی کارروائی پاکستان کے لیے امن و امان کا مسئلہ پیدا کر سکتی ہے۔ اس سے پاک-ایران گیس پائپ لائن منصوبہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے، جو پاکستان کی گیس کی قلت دور کرنے کے لیے اہم ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ ایندھن کی مہنگائی سے بچنے کی تدابیر
اگرچہ عام شہری عالمی سیاست کو کنٹرول نہیں کر سکتے، لیکن آپ اپنے بجٹ کو محفوظ رکھنے کے لیے درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں:
- سولر انرجی کا استعمال: اگر آپ کے پاس وسائل ہیں، تو سولر پینلز لگوانے کا یہ بہترین وقت ہے۔ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے سرکاری بجلی مسلسل مہنگی ہوتی رہے گی۔
- سواری کا دانشمندانہ انتخاب: ایندھن بچانے والی گاڑیوں یا کار پولنگ کو ترجیح دیں۔ اگر آپ نئی موٹر سائیکل خریدنے کا سوچ رہے ہیں، تو الیکٹرک بائیکس پر غور کریں تاکہ پٹرول کی قیمتوں سے بچا جا سکے۔
- ہنگامی فنڈز: روپے کی گرتی ہوئی قدر کے پیش نظر اپنے پاس کچھ ہنگامی رقم بچا کر رکھیں تاکہ بجلی کے بلوں یا پٹرول کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی صورت میں آپ کو مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آگے کیا ہونے والا ہے؟ برینٹ کروڈ اور امریکی انتخابات
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں پر نظر رکھیں۔ اگر خام تیل کی قیمت 85 سے 90 ڈالر فی بیرل کی طرف بڑھنا شروع ہوتی ہے، تو یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ آئندہ پندرہ روز میں پاکستان میں پٹرول مہنگا ہونے والا ہے۔
اس کے علاوہ، امریکی صدارتی انتخابات کی مہم پر بھی نظر رکھیں۔ اگر ٹرمپ دوبارہ صدر منتخب ہوتے ہیں، تو ایران کے خلاف ان کا سخت موقف اور آبنائے ہرمز سے متعلق ان کے دعوے محض بیانات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ بن سکتے ہیں، جو پاکستان کے لیے مستقل معاشی چیلنجز کا باعث بنے گا۔
