جب واشنگٹن میں پاکستان میں شہری نگرانی کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، تو یہ صرف ایک سفارتی بیان نہیں ہوتا؛ بلکہ یہ اس بنیادی وجہ کی نشان دہی ہے کہ کیوں عام پاکستانی شہری پر ٹیکسوں کا غیر معمولی بوجھ ڈالا جاتا ہے جبکہ قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ پارلیمانی جانچ پڑتال سے مخفی رہتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی تازہ سالانہ مالیاتی شفافیت کی رپورٹ میں واضح طور پر نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کے دفاعی اور انٹیلی جنس بجٹ کو مناسب شہری اور پارلیمانی نگرانی کے تابع نہیں بنایا جاتا۔ واشنگٹن نے اسلام آباد پر زور دیا ہے کہ وہ بجٹ تجاویز، سرکاری قرضوں کی تفصیلات اور تمام ریاستی اخراجات کو وقت پر اور مکمل شفافیت کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کرے۔
- اہم نقطہ: پاکستان میں دفاعی اور انٹیلی جنس اخراجات پارلیمانی یا عوام کی براہ راست نگرانی سے باہر ہیں۔
- امریکی مطالبات: سرکاری قرضوں کی مکمل تفصیلا ت کا افشاء، بجٹ تجاویز کا بر وقت انکشاف، اور ملٹری کے تحت چلنے والے تجارتی اداروں کا کھلے عام آڈٹ۔
- بین الاقوامی اثرات: شفافیت کی یہ منفی رپورٹس آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان کے کریڈٹ رسک اور قرض کی شرائط کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
- مقامی صورتحال: تنخواہ دار طبقہ سالانہ 350 ارب روپے سے زائد کا انکم ٹیکس دیتا ہے، جبکہ دوسری جانب اربوں روپے کے اضافی دفاعی فنڈز بغیر کسی تفصیلی بحث کے چند منٹوں میں پارلیمنٹ سے منظور کر لیے جاتے ہیں۔
شہری نگرانی کا آپ کی جیب سے کیا تعلق ہے؟
عام شہریوں کے لیے دفاعی اخراجات کا موضوع ایک پیچیدہ دفاعی معاملہ لگتا ہے جس کا روزمرہ زندگی سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا، لیکن مالیاتی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ جب اربوں روپے آف بجٹ کھاتوں یا سمیری منظوریوں کے ذریعے خرچ ہوتے ہیں اور ان کا کوئی تفصیلی آڈٹ نہیں ہوتا، تو قومی خزانے میں ایک بہت بڑا مالیاتی خسارہ پیدا ہوتا ہے۔
اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر آسان ترین راستہ اختیار کرتے ہیں: یعنی عام عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانا۔ اس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش پر جی ایس ٹی، پیٹرول پر بھاری لیوی، اور بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ جیسے ظالمانہ ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں۔
جب پارلیمنٹ کو یہ معلوم ہی نہیں ہوگا کہ پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے، تو وہ ہسپتالوں، سکولوں اور بنیادی ڈھانچے کے لیے فنڈز مختص کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہتی۔ بجٹ کی یہ عدم شفافیت براہ راست عام شہریوں پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھاتی ہے۔
وفاقی بجٹ کا مخفی حصہ
پاکستان کا سرکاری دفاعی بجٹ سالانہ 2.1 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جو کہ ریاست کے صوابدیدی اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ تاہم، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔
فوجی پینشنز، بھاری جنگی سامان کی خرید و فروخت، ایٹمی پروگرام اور سیکیورٹی آپریشنز کے اخراجات اکثر عام شہری حکومت کے اخراجات میں شامل کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیکورٹی اداروں کے تحت چلنے والے تجارتی ادارے اور ہاؤسنگ سکیمیں خصوصی ٹیکس مراعات کا فائدہ اٹھاتے ہیں جن کا آڈٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) شاذ و نادر ہی کرتی ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران دفاعی گرانٹس پر بغیر کسی تفصیلی بحث کے چند منٹوں میں دستخط کر دیے جاتے ہیں۔ مالیات سے متعلق پارلیمانی کمیٹیوں کو تفصیلی اخراجات کے بجائے صرف سمیری ٹوٹل دیے جاتے ہیں، جس سے عوامی نمائندے اندھیرے میں رہتے ہیں۔
عالمی مالیاتی ادارے اس عدم شفافیت کو کیسے دیکھتے ہیں؟
امریکی محکمہ خارجہ کی یہ رپورٹ محض ایک الگ تھلگ بیان نہیں ہے۔ آئی ایم ایف میں واشنگٹن کا ووٹ انتہائی اہمیت رکھتا ہے، اور یہ رپورٹ پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کو متاثر کر سکتی ہے۔
جب عالمی ادارے دیکھتے ہیں کہ ریاستی ضمانتیں اور قرضے چھپائے جا رہے ہیں اور شفاف آڈٹ موجود نہیں ہے، تو وہ پاکستان کو ایک انتہائی خطرناک قرض دار سمجھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آئی ایم ایف بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے اور نئے ٹیکس نافذ کرنے کی سخت شرائط عائد کرتا ہے۔
اس لیے مالیاتی شفافیت کوئی غیر ملکی فرمائش نہیں ہے—یہ روپیہ مستحکم کرنے، غیر ملکی قرضوں کا بوجھ کم کرنے اور معیشت کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
بحیثیت ٹیکس دہندہ آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
شہریوں کو بجٹ کے اس عمل کا خاموش تماشائی بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں:
- پارلیمانی کارروائی پر نظر رکھیں: سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مالیات اور قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کی رپورٹوں کا پارلیمنٹ کی ویب سائٹ (na.gov.pk) پر باقاعدگی سے جائزہ لیں۔
- معلومات تک رسائی کے قانون کا استعمال: رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے تحت وزارتِ خزانہ سے غیر حساس اور عام اخراجات کی تفصیلات طلب کریں۔
- اپنے ایم این اے سے سوال کریں: اپنے علاقے کے قومی اسمبلی کے رکن کو خط لکھیں اور مطالبہ کریں کہ بجٹ کی منظوری سے قبل ہر گرانٹ پر تفصیلی بحث کی جائے۔
- آئی ایم ایف کی رپورٹس پڑھیں: آئی ایم ایف کی جائزہ رپورٹس کا مطالعہ کریں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون سے غیر شفاف اخراجات کی وجہ سے آپ کے ٹیکسوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
پارلیمنٹ میں بجٹ کے مڈ ایئر ریویو اور اسلام آباد میں آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے انے والے مذاکرات پر نظر رکھیں۔ یہ دیکھیں کہ کیا وزارتِ خزانہ سرکاری اداروں اور ریاستی ضمانتوں پر تفصیلی رپورٹ جاری کرتی ہے یا نہیں۔
حقیقی پیشرفت کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ کیا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو تمام کھاتوں تک رسائی ملتی ہے اور کیا اگلے وفاقی بجٹ میں تمام اخراجات کو تفصیل سے پیش کیا جاتا ہے یا نہیں۔ جب تک یہ ساختاتی تبدیلیاں نہیں ہوتیں، عام پاکستانی کے مالیاتی حالات پر دباؤ برقرار رہے گا۔
