پاکستان کے شمالی پہاڑی سلسلوں میں بدلتا ہوا موسم روایتی موسمیاتی تبدیلیوں کو شدید متاثر کر رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ علاقے جو کبھی سردیوں میں برف کی موٹی چادر سے ڈھکے رہتے تھے، اب خشک اور بنجر مہینوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہندوکش اور اس کے ارد گرد وادیوں کے پرانے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں موجودہ سردیوں کی کیفیت بالکل بدل چکی ہے۔ دیودار کے خاموش جنگلات اور پہاڑوں کے دامن میں پھیلے سرسبز کھیتوں کو یاد رکھنے والے اب بے قاعدہ اور کم ہوتی ہوئی برف باری کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ ماحولیاتی تبدیلی محض یادوں کا حصہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان آبی ذخائر کے لیے گہرے خطرے کی علامت ہے جو پورے ملک کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔

تیرچ میر اور گلگت بلتستان سے لے کر خیبر پختونخوا تک پھیلے ہوئے پہاڑوں کے سائے میں رہنے والی آبادی کے لیے سردیاں ہمیشہ ایک مخصوص وقت پر شروع ہوتی تھیں۔ بزرگ یاد کرتے ہیں کہ دہائیوں پہلے دسمبر تک کئی فٹ موٹی برف جمع ہو جاتی تھی جو زمین کو محفوظ رکھتی اور موسم بہار میں فصلوں کے لیے پانی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بناتی تھی۔ آج بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے سردیوں کے موسم کو مختصر کر دیا ہے۔ جہاں پہلے بھاری برف باری ہوتی تھی، وہاں اب اکثر بارش ہوتی ہے، جس سے پانی تیزی سے بہہ جاتا ہے اور گلیشیئرز کی وہ قدرتیابی نہیں ہو پاتی جو پاکستان کے زرعی نظام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

ہندوکش کی غائب ہوتی برف

شمالی پاکستان کے ماحولیات پر کم ہوتی ہوئی برف کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ دیودار کے وہ جنگلات جو کبھی سفید برف میں لپٹے رہتے تھے، اب طویل خشک سالی کا شکار ہیں، جس سے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ مقامی زرعی کیلنڈر، جو تاریخی طور پر سردیوں کی برف اور اس کے پگھلاؤ سے جڑا ہوا تھا، اب بے ترتیب ہو چکا ہے۔ کسان بتاتے ہیں کہ وہ معمول سے ہٹ کر فصلیں کاشت کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ موسم کا کوئی درست اندازہ لگانا ممکن نہیں رہا۔

اس خطے کی نگرانی کرنے والے سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ بلند پہاڑی علاقوں میں ماحول کی گرمی میدانی علاقوں کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہندوکش اور ہمالیہ کا یہ خطرہ جنوبی ایشیا کے واٹر ٹاورز کے لیے سنگین خطرہ بن رہا ہے۔ جب موسم سرما کی بارش برف کے بجائے پانی کی صورت میں برستی ہے تو گلیشیئرز کا قدرتی ذخیرہ کرنے کا نظام متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں موسم گرما کے دوران خشک سالی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان کی آبی سلامتی پر اثرات

برف کے ذخائر میں کمی کا براہ راست اثر دریائے سندھ کے طبے پر پڑتا ہے، جو گرمیوں کے مہنوں میں گلیشیئرز کے پانی پر انحصار کرتا ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اس کے باوجود مقامی سطح پر اقدامات سست روی کا شکار ہیں۔ جب شمالی چوٹیوں پر موسم بہار تک برف محفوظ نہیں رہتی تو پن بجلی کی پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے اور آبپاشی کے نہروں کو عین اس وقت پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب فصلوں کو سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

عام شہریوں کو خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور پانی کی قلت کی وجہ سے بجلی کے مہنگے نرخوں کی صورت میں اس بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موسم کی غیر یقینی صورتحال اب کوئی کتابی بحث نہیں رہی بلکہ یہ براہ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے موثر واٹر شیڈ مینجمنٹ، شجرکاری مہم اور بین الاقوامی سطح پر ماحولیاتی سفارت کاری کی اشد ضرورت ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ شمالی علاقوں میں رہتے ہیں یا پہاڑی مقامات کا سفر کرتے ہیں تو محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ موسم کی ایڈوائزری سے باخبر رہیں۔ دیودار کے جنگلات اور قدرتیابی کے عمل کو تحفظ فراہم کرنے والی مقامی تنظیموں کی حمایت کریں۔ روزمرہ زندگی میں پانی کی بچت کریں تاکہ شہروں میں ضائع ہونے والا پانی قومی سپلائی چین پر بوجھ نہ بنے۔

آگے کیا دیکھنا ہے

محکمہ موسمیات کی جانب سے سردیوں کی بارشوں کی پیشگوئی اور موسم گرما کی ابتدائی رپورٹس پر گہری نظر رکھیں۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ایسے اقدامات کا جائزہ لیں جو گلیشیئرز کے پگھلاؤ سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے ابتدائی انتباہی نظام اور فنڈنگ سے متعلق ہیں۔