وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے درمیان ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی پر کسی بھی قسم کے شدید جھگڑے کی خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے اہم میزائلوں اور گولہ بارود کی کمی پر وزیر دفاع سے سخت بازپرس کی تھی۔

دیگر خبر رساں اداروں کے مطابق اسی مبینہ صورتحال نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملے نہ کرنے کے فیصلے پر بھی اثر ڈالا۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ان تمام دعوؤں کو بے بنیاد اور جعلی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اشاعت سے پہلے ہی اخبار کو بتا دیا گیا تھا کہ یہ رپورٹ حقائق کے منافی ہے۔

کیمپ ڈیوڈ کا اجلاس اور اسلحے کی کمی کے دعوے

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب بین الاقوامی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر اور وزیر دفاع کے درمیان گولہ بارود کے ذخائر پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ امریکی ہتھیاروں کی کمی کا یہ مسئلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن عالمی سطح پر اپنے اتحادیوں کو مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی صلاحیت کو بھی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کیمپ ڈیوڈ کے اجلاس میں اس بات پر بحث ہوئی کہ آیا پینٹاگون کے پاس بیک وقت کئی محاذوں پر جنگ لڑنے کے لیے درست نشانہ لگانے والے میزائل کافی مقدار میں موجود ہیں یا نہیں۔

وائٹ ہاؤس کا باضابطہ ردعمل

انتظامیہ کی جانب سے اندرونی اختلافات کی تردید کرتے ہوئے پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ میڈیا میں چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی دفاعی تیاریاں مکمل ہیں اور اس طرح کی رپورٹس کا مقصد صرف غیر ضروری افواہیں پھیلانا ہے۔

واضح کی گئی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے درمیان کسی بھی جھگڑے کی سختی سے تردید۔
- امریکی فوج کے دفاعی ذخائر کے پوری طرح فعال ہونے کا اعادہ۔
- ایران اور دیگر خطگان میں عسکری فیصلوں سے متعلق مفروضوں کو رد کرنا۔

مش مشرق وسطیٰ کی پالیسی اور آئندہ کے اثرات

اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اعلیٰ قیادت میں کسی بھی قسم کے اختلافات کی تردید کی ہے، تاہم دفاعی مبصرین اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ ہتھیاروں کے ذخیرے کے اعداد و شمار آئندہ امریکی پالیسیوں کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے واشنگٹن کی عسکری ترجیحات ہمیشہ سے اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ ان کے براہ راست اثرات عالمی سیاست پر پڑتے ہیں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

آنے والے دنوں میں امریکی کانگریس میں ہونے والی ان کمیٹیوں کے اجلاسوں پر نظر رکھیں جہاں پینٹاگون کے حکام دفاعی بجٹ اور اسلحے کی خریداری پر بریفنگ دیں گے۔ دفاعی وزارت کی سرکاری ویب سائٹ defense.gov کا وزٹ کر کے اصل صورتحال کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔