وفاقی حکومت نے پیٹرولیم ڈیلرز کے طویل عرصے سے زیر التواء مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے کمیشن میں ایک روپے چونتیس پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ پہلی نظر میں ڈیلرز کے مارجن میں یہ اضافہ معمولی دکھائی دیتا ہے، لیکن ہر شہری کے ذہن میں بنیادی سوال یہ ہے کہ پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کا بوجھ آخر کون اٹھاتا ہے۔ عملی طور پر، اس فیصلے کی قیمت عام صارفین اور موٹر سائیکل اور گاڑی چلانے والے افراد کو چکانی پڑتی ہے۔

جب فیول پمپ مالکان کے آپریٹنگ اخراجات اور منافع کے مارجن میں اضافہ کیا جاتا ہے تو پمپ مالکان یہ بوجھ خود برداشت نہیں کرتے۔ اس کے بجائے، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کردہ پیٹرولیم مصنوعات کی حتمی قیمتوں میں اس اضافے کو شامل کر لیا جاتا ہے۔ جب بھی آپ لاہور، کراچی، اسلام آباد یا کسی بھی دوسرے شہر میں گاڑی یا موٹر سائیکل میں تیل ڈلوانے جاتے ہیں، تو یہ اضافی رقم پمپ پر آپ سے وصول کی جاتی ہے۔

ڈیلرز نے مارجن بڑھانے کا مطالبہ کیوں کیا؟

پاکستان بھر میں پیٹرول پمپ مالکان کئی مہینوں سے اسلام آباد میں حکام سے مطالبات کر رہے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ بجلی کے بھاری بلوں، کمرشل پراپرٹی کے ٹیکسوں، بینکوں کے سود کی شرح اور مجموعی مہنگائی کی وجہ سے پمپ چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ ڈیلر ایسوسی ایشنز نے کئی بار ملک گیر ہڑتالوں کی دھمکیاں بھی دیں تاکہ ان کے کمیشن میں اضافہ کیا جا سکے

حکومت کے لیے سپلائی چین کو برقرار رکھنا ایک اہم ترجیح ہے تاکہ ملک میں ایندھن کی قلت پیدا نہ ہو۔ تاہم، اس قسم کے مالیاتی فیصلے کرنے سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

آپ کے ماہانہ بجٹ پر اس کا اثر

اگر آپ روزانہ گاڑی یا موٹر سائیکل چلاتے ہیں، تو فی لیٹر ایک روپے چونتیس پیسے کا اضافہ ایک بار دیکھنے میں چھوٹا لگ سکتا ہے۔ لیکن اس کا اثر پورے معاشی نظام پر پڑتا ہے۔ ٹرکوں اور مال بردار گاڑیوں کے کرائے بڑھنے سے سبزیوں، اشیائے خورونوش اور دیگر روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

  • پبلک ٹرانسپورٹ اور رکشہ کے کرایوں میں بتدریج اضافہ ہوتا ہے۔
  • چھوٹے تاجروں کو سامان ایک شہر سے دوسرے شہر لے جانے کے لیے زیادہ لاگت برداشت کرنا پڑتی ہے۔
  • گھریلو بجٹ پر مہنگائی کا اضافی دباؤ پڑتا ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

وزارتِ خزانہ اور اوگرا کی جانب سے ہر پندرہ دن بعد جاری ہونے والی ایندھن کی نئی قیمتوں کے اعلانات پر گہری نظر رکھیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور ملکی معاشی صورتحال کے پیش نظر، ڈیلرز کے مارجن یا لیوی میں کسی بھی قسم کی مزید تبدیلی براہ راست مہنگائی میں اضافے کا باعث بنے گی۔