عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے who vaccine policy warning نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی آنے والی انتظامیہ کی جانب سے ویکسینیشن کے حوالے سے ممکنہ پالیسی تبدیلیوں پر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دہائیوں پر محیط سائنسی شواہد اور طبی کامیابیوں کو پسِ پشت ڈالنے کے مترادف ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی تنبیہ کیوں اہم ہے؟

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے زور دیا ہے کہ ویکسین بچوں کو مہلک بیماریوں سے بچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ ٹرمپ کی ٹیم کی جانب سے وفاقی ہیلتھ گائیڈ لائنز میں ممکنہ تبدیلیوں کے اشارے مل رہے ہیں، جس سے ویکسینیشن کے معیاری شیڈول متاثر ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ صورتحال اہم ہے کیونکہ یہاں پولیو، خسرہ اور خناق جیسی بیماریوں کے خلاف مسلسل مہم جاری ہے۔ مغرب میں ویکسین کے خلاف اٹھنے والی آوازیں اکثر بین الاقوامی سطح پر اثر انداز ہوتی ہیں، جس سے مقامی سطح پر حفاظتی ٹیکوں کے پروگراموں (EPI) پر عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سائنسی شواہد کو نظر انداز کرنے کے نقصانات

دہائیوں کا ڈیٹا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ویکسینیشن کی کوریج ہی بیماریوں پر قابو پانے کا واحد راستہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، سائنسی اتفاق رائے سے ہٹ کر بنائی گئی پالیسیاں ان بیماریوں کے دوبارہ پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں جن پر اب تک قابو پایا جا چکا ہے۔

  • ویکسین ہر سال لاکھوں جانیں بچاتی ہیں۔
  • اجتماعی قوت مدافعت (Herd Immunity) کمزور طبقوں کی حفاظت کرتی ہے۔
  • سرکاری سطح پر شکوک و شبہات پیدا کرنے سے ویکسین مخالف پروپیگنڈے کو تقویت ملتی ہے۔

پاکستانی والدین کو کیا کرنا چاہیے؟

عالمی سیاست سے قطع نظر، پاکستان میں صحت کے حکام کی ہدایات واضح ہیں۔ والدین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ وزارتِ صحت کے طے کردہ حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول پر سختی سے عمل کریں۔

اگر آپ کو ویکسین کی افادیت یا حفاظت کے بارے میں کوئی خدشات ہیں، تو سوشل میڈیا کی افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے اپنے مقامی ڈاکٹر یا قریبی سرکاری ہسپتال سے رجوع کریں۔ مقامی EPI مراکز پر فراہم کردہ ویکسین مکمل طور پر محفوظ اور بچوں کی صحت کے لیے ناگزیر ہیں۔

مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے؟

آئندہ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا امریکہ کی یہ پالیسی عالمی صحت کے لیے مختص فنڈنگ پر اثر انداز ہوتی ہے یا نہیں۔ پاکستان جیسے ممالک جو عالمی اداروں کی تکنیکی اور مالی معاونت پر انحصار کرتے ہیں، انہیں ویکسین کی فراہمی یا نگرانی کے عمل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور مقامی حکام کے اعلانات پر نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ان بین الاقوامی تبدیلیوں کا مقامی صحت کے نظام پر کیا اثر پڑے گا۔