نمبروں سے بڑھ کر عقل اور حکمت پاکستانی تعلیمی نظام کا وہ گمشدہ نکتہ ہے جہاں رٹہ بازی اب بھی حقیقی فکری ترقی پر حاوی ہے۔ سترہویں صدی کے انگریزی فلسفی فرانسس بیکن نے اپنے شاہکار مضمون 'مطالعہ کے متعلق' میں لکھا تھا کہ مطالعہ لذت، خوبصورتی اور صلاحیت کے لیے ہوتا ہے۔ تاہم 2026 میں پاکستان بھر کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کا پورا تعلیمی ڈھانچہ ایک ہی تنگ و تاریک مقصد کے گرد گھومتا ہے: بورڈ کے امتحان میں اے پلس گریڈ لینا یا ہائی سی جی پی اے حاصل کرنا۔ زیادہ نمبروں کی اس اندھی دوڑ نے ایسے ڈگری یافتہ نوجوان پیدا کیے ہیں جو نصابی کتابیں زبانی یاد کر سکتے ہیں لیکن عملی زندگی کے بنیادی مسائل حل کرنے سے قاصر ہیں۔ آپ کراچی، لاہور یا اسلام آباد کی لیبر مارکیٹ میں روزانہ دیکھتے ہیں کہ کیسے نمایاں نمبروں سے پاس ہونے والے گریجویٹس عملی چیلنجز کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔
یہ بحران اسکول کی سطح سے شروع ہوتا ہے جو پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے تعلیمی بورڈز کے امارتی نظام میں گہرائی تک پیوست ہے۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات ان طلباء کو نوازتے ہیں جو کتابی تعریفیں ہو بہو نقل کر دیتے ہیں، جبکہ آزادانہ سوچ یا تنقیدی تجزیہ کرنے والے کو سزا ملتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کوچنگ سینٹرز گیس پیپرز اور رٹہ لگانے کے فارمولے بیچ کر پھول پھول رہے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور صوبائی تعلیمی بورڈز نتائج پر مبنی تعلیم کی باتیں کرتے ہیں لیکن زمینی حقائق بدستور اپنی جگہ پر ہیں۔ طلباء اپنے ابتدائی سال صرف فیصدی نمبر بڑھانے کی فکر میں ضائع کر دیتے ہیں، جس سے ان کی علمی پیاس، نصاب سے ہٹ کر مطالعہ کرنے کی عادت اور عملی صلاحیتیں کچل جاتی ہیں۔
کلاس روم سے باہر سیکھنے کی اصل قیمت
بیکن نے نشاندہی کی تھی کہ ماہر لوگ منصوبے تو بنا سکتے ہیں لیکن بہتر حکمت عملی وہ لوگ بناتے ہیں جن کا مطالعہ وسیع اور تجربہ گوناگوں ہو۔ پاکستان میں ہم ایسے تنگ نظر تکنیکی ماہرین پیدا کرتے ہیں جو فارمولے تو رٹ لیتے ہیں لیکن سیاق و سباق سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ فزکس میں پچانوے فیصد نمبر لینے والا طالبعلم اکثر اس وقت گھمبیر صورتحال کا شکار ہوجاتا ہے جب اسے گھر کا کوئی عام بجلی کا فالٹ درست کرنا پڑے یا بجلی کے ٹیرف کے گھریلو بجٹ پر اثرات سمجھنے ہوں۔ نمبروں کے بجائے حقیقی عقل اور فہم کے حصول میں فیصلہ سازی، مواصلات اور حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت شامل ہے جسے کوئی بھی کثیرالانتخابی سوال (MCQ) ناپ نہیں سکتا۔ نجی شعبے کے آجروں کی ہمیشہ یہ شکایت رہتی ہے کہ شاندار تعلیمی اسناد کے باوجود امیدواروں میں بنیادی دفتری آداب، تنقیدی سوچ اور ایک باقاعدہ پیشہ ورانہ ای میل لکھنے کی اہلیت نہیں ہوتی۔
کاغذی اسناد اور عملی صلاحیت کے درمیان اس بڑھتے ہوئے خلیج کو پاٹنے کے لیے طلباء اور والدین کو اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔
- نصاب سے ہٹ کر کتابیں پڑھیں، بشمول تاریخ، فلسفہ اور بنیادی معاشیات۔
- عملی اعتماد پیدا کرنے کے لیے تقریری مقابلوں، سائنس میلوں اور سماجی فلاحی منصوبوں میں حصہ لیں۔
- پرانے پرچے رٹنے کے بجائے بنیادی تصورات اور اصولوں کو سمجھنے پر توجہ دیں۔
- باضابطہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کوئی عملی ڈیجیٹل ہنر مثلاً کوڈنگ، گرافک ڈیزائننگ یا پیشہ ورانہ تحریر سیکھیں۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ پاکستانی تعلیمی نظام کے اندر موجود کوئی طالب علم یا والدین ہیں، تو آپ کو اپنی تعلیمی اہلیت کو نقصان پہنچائے بغیر نمبروں کی اس غلامی سے باہر نکلنا ہوگا۔ اگرچہ یونیورسٹیاں اب بھی داخلے کے لیے کم از کم فیصدی نمبروں کا تقاضا کرتی ہیں، لیکن آپ کو خود سے سیکھنے کے لیے وقت نکالنا ہوگا۔ اخبارات اٹھائیں، تفصیلی صحافت پڑھیں اور اندھا دھند ہر بات تسلیم کرنے کے بجائے سوال کریں کہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں۔ جدید نوکری کے انٹرویو میں انٹرمیڈیٹ کے سرٹیفکیٹ پر دو فیصد اضافی نمبروں کے مقابلے میں آپ کا عملی پروجیکٹس کا پورٹ فولیو زیادہ کام آئے گا۔
آگے کیا دیکھنا ہے
وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے نصابی اصلاحات پر کڑی نظر رکھیں، خاص طور پر وہ اپڈیٹس جو رواں برس کے آخر میں تصوراتی جانچ کے ماڈلز کی آزمائش کے لیے متوقع ہیں۔ اس بات کا جائزہ لیں کہ پاکستان کی بڑی یونیورسٹیاں کس طرح اپنے داخلہ ٹیسٹوں کو کتابی یادداشت کے بجائے طلباء کی صلاحیت جانچنے کے لیے ڈھالتی ہیں۔ تبدیلی کی رفتار سست ضرور ہے، لیکن جیسے جیسے عالمی جاب مارکیٹ رٹہ بازی پر فکری لچک کو ترجیح دے رہی ہے، خالی نمبروں کے پیچھے بھاگنے کی قیمت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔
