پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ دراصل ایک ناکام انتظامی ڈھانچے کی علامت ہے، نہ کہ گورننس کے بحران کا حل۔ اگر ضلعی حکومتوں کا نظام حقیقی معنوں میں فعال اور بااختیار ہوتا تو شاید نئے انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔
ضلعی حکومتوں کا نظام اور اختیارات کی منتقلی
مسئلے کی جڑ بڑی سیاسی جماعتوں کا مرکزیت پسندانہ رویہ ہے۔ آئین کے آرٹیکل 140-A کے باوجود، جو مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی کا پابند بناتا ہے، صوبائی حکومتیں نچلی سطح پر اختیارات منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کا نتیجہ ناقص حکمرانی کی صورت میں سامنے آتا ہے، کیونکہ وسائل اور فیصلے ان لوگوں سے دور رہتے ہیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
جب کسی دور دراز ضلع کے شہری کو پینے کے صاف پانی، سڑکوں کی تعمیر یا اسکولوں کی بہتری کے لیے صوبائی دارالحکومت کی طرف دیکھنا پڑتا ہے، تو یہ نظام کی ناکامی ہے۔ ایک مضبوط مقامی حکومت کا نظام ان مسائل کو ضلع کی سطح پر ہی حل کرنے کا اہل ہوتا، جہاں نمائندے براہ راست عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں۔
نئے صوبے کیوں حل نہیں؟
بہت سے سیاسی رہنما عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے لیے نئے صوبوں کا نعرہ لگاتے ہیں، خاص طور پر انتخابی مہمات کے دوران۔ لیکن بنیادی ڈھانچے کو درست کیے بغیر نئے صوبے بنانا صرف انتظامی بوجھ میں اضافہ کرے گا۔ اس سے وہی مرکزیت پسندانہ ماڈل دوبارہ پیدا ہوگا جو پہلے ہی موجودہ انتظامی اکائیوں میں ناکام ہو چکا ہے۔
- احتساب: مقامی حکومتیں قیادت کو عوام کے قریب لاتی ہیں۔
- کارکردگی: صوبائی منظوریوں کے انتظار کے بغیر فیصلے تیزی سے ہوتے ہیں۔
- وسائل کی تقسیم: فنڈز کا استعمال مقامی ضروریات کے مطابق کیا جا سکتا ہے۔
آگے کیا کرنا چاہیے؟
ایک عام پاکستانی کے لیے ترجیح ایک شفاف اور مالی طور پر خود مختار مقامی حکومت کا نظام ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ ضلعی حکومتوں کے پاس صفائی، بنیادی صحت اور مقامی انفراسٹرکچر کے لیے اپنے فنڈز کا انتظام کرنے کی آزادی ہو۔
اب آپ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ سیاسی جماعتیں مقامی حکومتوں کی مالی خودمختاری کے حوالے سے کیا موقف اپناتی ہیں۔ جب تک وہ ضلعی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتیں، نئے صوبوں کی باتیں صرف عوامی توجہ ہٹانے کا ایک حربہ ہیں۔ اصل ضرورت موجودہ اداروں کو نچلی سطح پر مضبوط کرنے کی ہے۔
