مون سون کے موسم میں بارشوں اور حبس کے بڑھتے ہی پاکستان بھر میں آئی فلو یعنی آنکھوں کے انفیکشن کے کیسز میں تیزی آ رہی ہے۔ لاہور، کراچی اور دیگر بڑے شہروں کے اسپتالوں میں آنکھوں کی سرخی اور جلن کے مریضوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موسم میں ہوا میں نمی کا تناسب اور بارش کا آلودہ پانی وائرس اور بیکٹیریا کی افزائش کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس لیے اس بیماری کے پھیلاؤ کی وجوہات اور حفاظتی تدابیر سے آگاہی ہر شہری کے لیے ضروری ہے۔
برسات میں آئی فلو پھیلنے کی وجوہات
بارشوں کے بعد گلیوں اور سڑکوں پر جمع ہونے والا گندہ پانی اور اڑنے والی گرد و غبار کے ذرات انفیکشن کا سبب بنتے ہیں۔ لوگ بارش یا پسینہ صاف کرنے کے لیے اکثر گندے ہاتھوں کا استعمال کرتے ہیں، جس سے جراثیم آسانی سے آنکھوں تک منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ بیماری وائرس اور بیکٹیریا دونوں کی وجہ سے ہوتی ہے اور ایک شخص سے دوسرے شخص میں بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔ گھروں، اسکولوں اور دفاتر میں ایک ہی تولیہ، دروازے کے ہینڈل یا دیگر اشیاء کا مشترکہ استعمال اس کے پھیلاؤ کو مزید تیز کر دیتا ہے۔
اہم علامات جن پر نظر رکھنی چاہیے
پنک آئی یا آئی فلو کی بروقت شناخت سے اس کے مزید پھیلنے کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ بیماری عام طور پر ایک آنکھ سے شروع ہوتی ہے اور چند گھنٹوں میں دوسری آنکھ کو بھی متاثر کر لیتی ہے۔
- آنکھوں میں شدید سرخی، سوجن اور ریت جیسا کرکرا پن محسوس ہونا
- آنکھوں سے مسلسل پانی بہنا یا صبح اٹھتے وقت پلکوں کا پیپ کی وجہ سے چپک جانا
- تیز روشنی یا دھوپ سے آنکھوں کا چندھیا جانا اور تکلیف ہونا
- نظر کا دھندلا ہونا جو پلکوں پر جمع ہونے والے ریشے کی وجہ سے ہوتا ہے
بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کے آسان طریقے
اگر خدانخواستہ آپ یا آپ کے گھر میں کوئی اس بیماری کا شکار ہو جائے تو گھبرانے کی بجائے فوری طور پر کچھ بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ خود سے کوئی بھی پرانی یا بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے آئی ڈراپس استعمال کرنے سے گریز کریں۔
- صابن سے بار بار ہاتھ دھوئیں، خاص طور پر چہرے کو ہاتھ لگانے کے بعد
- آنکھوں کو بار بار ملنے سے گریز کریں اور کپڑے کے رومال کی بجائے ٹشو پیپر کا استعمال کریں
- اپنا تولیہ، تکیہ، صابن اور آئی ڈراپس گھر کے دوسرے افراد کے ساتھ ہرگز شیئر نہ کریں
- باہر نکلتے وقت دھوپ کا چشمہ پہنیں تاکہ گرد و غبار اور روشنی سے محفوظ رہ سکیں
- کسی بھی پیچیدگی کی صورت میں مستند آئی اسپیشلسٹ سے رجوع کریں
صحت کے محکموں کی ہدایات اور آگے کیا متوقع ہے
صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے اسکولوں اور کالجوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں تاکہ طلباء میں انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ آپ کو چاہیے کہ اپنے علاقے کی صورتحال پر نظر رکھیں اور بچوں کو اسکول بھیجتے وقت خصوصی احتیاط برتیں۔ طبی ماہرین کے مطابق جب تک مون سون کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، اس بیماری کا خطرہ برقرار رہے گا لہٰذا صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
