پاکستان اور دنیا بھر میں فلو ویکسین کی تحقیق میں اس وقت ایک بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی جب امریکی محکمہ صحت (HHS) نے 5 اگست 2025 کو 22 اہم mRNA ویکسین پروجیکٹس کو اچانک منسوخ کر دیا۔

اس فیصلے کے تحت تقریباً 500 ملین ڈالر کی فنڈنگ روک دی گئی ہے، جو دراصل اس ٹیکنالوجی میں ریاستی سرمایہ کاری کا خاتمہ ہے جسے کبھی تیزی سے ویکسینیشن کا مستقبل قرار دیا جا رہا تھا۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں موسمی فلو کے وائرس اکثر پبلک ہیلتھ سسٹم پر بوجھ ڈالتے ہیں، یہ خبر فلو ویکسین کی تحقیق میں طویل مدتی پیشرفت کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے۔

فلو ویکسین کی تحقیق میں تبدیلی کیوں اہم ہے؟

برسوں سے سائنسدان ایم آر این اے (mRNA) ٹیکنالوجی کو روایتی انڈوں پر مبنی ویکسین کی جگہ لانے کے لیے کوشاں تھے۔ روایتی ویکسین بنانے میں مہینوں لگتے ہیں، جبکہ ایم آر این اے کے ذریعے ویکسین کو ہفتوں میں اپ ڈیٹ کرنا ممکن تھا۔ فنڈنگ کی منسوخی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی موجودہ معیارات کے مقابلے میں افادیت یا لاگت کے لحاظ سے توقعات پر پورا نہیں اتر سکی۔

  • منسوخ شدہ کل فنڈنگ: 500 ملین ڈالر۔
  • منسوخ شدہ پروجیکٹس کی تعداد: 22۔
  • اعلان کی تاریخ: 5 اگست 2025۔

عوامی صحت پر اثرات

ایک عام پاکستانی شہری کے لیے اس کا مطلب ویکسینیشن پروگراموں کا خاتمہ نہیں ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ 'یونیورسل' فلو ویکسین جس کی ماہرین توقع کر رہے تھے، اب کئی سال دور ہو سکتی ہے۔ موجودہ موسمی فلو کے ٹیکے بدستور معیاری رہیں گے اور محکمہ صحت کی جانب سے فراہم کردہ ویکسین ہی استعمال کی جائے گی۔

اگر آپ اس سال فلو کا ٹیکہ لگوانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو وزارت قومی صحت کی ہدایات پر عمل جاری رکھیں۔ بین الاقوامی پروجیکٹس کی منسوخی کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ طبی مشورے بدل گئے ہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

  • باخبر رہیں: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) پاکستان کی جانب سے موسمی ویکسین کی دستیابی کے بارے میں اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔
  • کسی 'جادوئی' ویکسین کا انتظار نہ کریں: اپنے مقامی ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق موجودہ شیڈول کے مطابق ویکسینیشن کروائیں۔
  • احتیاطی تدابیر: سردیوں کے موسم میں ہاتھ دھونے جیسی حفظان صحت کی عادات کو برقرار رکھیں، کیونکہ یہ موجودہ ویکسین کے ساتھ مل کر وائرس سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ امریکی حکومت کے اس اعلان کے بعد بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیاں اپنے تحقیقی بجٹ میں کیا تبدیلیاں لاتی ہیں۔ جب بڑی فنڈنگ رک جاتی ہے، تو نجی کمپنیاں اکثر وائرس سے بچاؤ کی تحقیق سے ہٹ کر منافع بخش ادویات پر توجہ مرکوز کر لیتی ہیں۔ ہم اس بات کا جائزہ لیتے رہیں گے کہ کیا کوئی مقامی پاکستانی ادارہ اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کرے گا، حالانکہ اس کے لیے بھاری نجی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔