پاکستان کی سیاسی جماعتیں اس ایک نکتے پر مکمل اتفاق رائے رکھتی ہیں کہ مقامی حکومتوں کو کسی بھی قیمت پر کام نہیں کرنے دینا چاہیے۔ کراچی سے لے کر پشاور تک، صوبائی اسمبلیاں باقاعدگی سے میونسپل اداروں کی فنڈنگ روکتی ہیں، انتخابات میں تاخیر کرتی ہیں، اور منتخب کونسلرز کو نظر انداز کر کے غیر منتخب افسران کو بٹھا دیتی ہیں۔ یہ محض انتظامی نااہلی یا قابلیت کی کمی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اختیارات کو صوبائی دارالحکومتوں تک محدود رکھنے کا ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے۔ تاہم، مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے فروغ نے اس تمام صورتحال کو بدل کر رکھ دیا ہے، جس کے بعد چھوٹے انتظامی یونٹس اب کوئی خیالی پلاؤ نہیں بلکہ ایک ناگزیر اقتصادی ضرورت بن چکے ہیں۔

ڈیجیٹل دور میں مرکزیت کی ناکامی

دو کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں مرکزیت کا نظام اپنے ہی بوجھ تلے دب چکا ہے۔ جب اسلام آباد یا کوئی صوبائی دارالحکومت سندھ کے دیہی علاقوں میں اسکولوں کی مرمت سے لے کر فیصل آباد کی یونین کونسل میں پانی کی تقسیم تک سب کچھ خود چلانے کی کوشش کرتا ہے، تو نظام بیٹھ جاتا ہے۔ فائلیں نوآبادیاتی دور کے سیکریٹریٹس میں مہینوں گھومتی رہتی ہیں، جبکہ عام شہری اپنے شناختی کارڈ کی تجدید، زمین کے ریکارڈ یا یوٹیلیٹی کنکشن کے لیے مہینوں دھکے کھاتے ہیں۔ مرکزی سیاسی قیادت اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے سے اس لیے کتراتی ہے کیونکہ اس سے ان کا سیاسی اثرورسوخ کم ہوتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کو چلانے کے لیے مقامی ڈیٹا، فوری فیڈ بیک لوپس اور خودکار نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ مرکزی وفاقی اور صوبائی وزارتیں اتنے بڑے پیمانے پر غیر منظم ڈیٹا کے ساتھ مؤثر انداز میں مشین لرننگ ماڈلز نہیں چلا سکتیں۔ لاہور یا اسلام آباد کے ایک کمرے میں بیٹھ کر پورے صوبے کے لیے ٹریفک یا ٹیکس جمع کرنے کے نظام کو کنٹرول کرنا ایسا ہی ہے جیسے ٹوتھ پِک سے بحری جہاز چلانا۔ آپ کو ایسے چھوٹے انتظامی دائرہ اختیار چاہیے جہاں چند لاکھ آبادی ہو تاکہ قابلِ اعتماد ڈیٹا الگورتھم کو کھلایا جا سکے۔

مصنوعی ذہانت مائکرو گورننس کو کیسے بہتر بناتی ہے

ذرا تصور کریں کہ جب مصنوعی ذہانت کو چھوٹے انتظامی زونز میں لاگو کیا جائے تو خدمات کی فراہمی کتنی بہتر ہو جاتی ہے۔ روایتی اور سست بیوروکریسی پر بھروسہ کرنے کے بجائے، میونسپل سسٹمز سیٹلائٹ کی تصاویر یا اسمارٹ فون رپورٹس کی مدد سے ٹوٹے ہوئے راستوں اور گڑھوں کا فوری پتہ لگا سکتے ہیں۔ جائیدادوں کی خودکار میپنگ سے ان کمرشل املاک کو پکڑا جا سکتا ہے جو تیزی سے پھیلتے ہوئے مضافات میں ٹیکس دینے سے بچ جاتی ہیں۔

  • کمپیوٹر وژن کا استعمال کرتے ہوئے چوراہوں پر ٹریفک کی ریئل ٹائم بہتری
  • میونسپل پائپ لائنوں میں خودکار واٹر میٹرنگ اور لیک کا پتہ لگانا
  • یونین کونسل کی سطح پر ڈینگی جیسی بیماریوں کی پیش گوئی
  • محفوظ اور شفاف ڈیٹا بیس پر مبنی ڈیجیٹل لینڈ رجسٹریاں

یہ تمام ٹولز اس وقت کام نہیں کرتے جب ایک ڈپٹی کمشنر لاکھوں افراد اور وسیع علاقے کا اکیلے ذمہ دار ہو۔ چھوٹے یونٹس وہ اعلیٰ ریزولوشن ڈیٹا ماحول بناتے ہیں جو جدید کمپیوٹنگ کو انسانی مسائل حل کرنے کے لیے درکار ہوتا ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

عام شہری اس مرکزی ناکامی کی قیمت ضائع ہونے والے وقت، بھاری بلوں اور ناقص عوامی خدمات کی شکل میں چکاتے ہیں۔ آپ کو مقامی بلدیاتی انتخابات کو قومی سیاست کے مقابلے میں کوئی غیر اہم معاملہ سمجھنا بند کرنا ہوگا۔ جب آپ کے علاقے میں بلدیاتی انتخابات ہوں، تو امیدواروں سے روایتی نعروں کے بجائے ڈیجیٹل گورننس کا منشور مانگیں۔ اپنے صوبائی قانون سازوں پر زور دیں کہ وہ ضلعی سطح کے اداروں کو مالی خودمختاری دینے والے قوانین پاس کریں۔

آگے کیا دیکھنا ہے

آنے والے مہینوں میں پنجاب اور سندھ کی اسمبلیوں میں آنے والی بلدیاتی ترامیم پر گہری نظر رکھیں۔ یہ دیکھیں کہ کیا کوئی صوبائی حکومت مصنوعی ذہانت پر مبنی میونسپل ٹولز کو اپنانے کی جرات کرتی ہے یا وہی پرانے کاغذی رجسٹر اور مبہم بیوروکریٹک طریقہ کار جاری رہتا ہے۔ جو انتظامی ماڈل کامیاب ہوگا، وہی طے کرے گا کہ پاکستان ٹیکنالوجی کو عوامی بھلاڑی کے لیے استعمال کرتا ہے یا اسے پرانی کرپشن بچانے کے لیے ڈھال بناتا ہے۔