اگر آپ اسمارٹ ہوم کے لیے کسی نئے گیجٹ کی تلاش میں ہیں، تو 2026 میں 99 ڈالر میں متعارف کرایا گیا گوگل ہوم اسپیکر فی الحال خریدنے کے لیے ایک غلط انتخاب ہے۔ نئی ہارڈویئر کے گرد موجود مارکیٹنگ کے شور کے باوجود، یہ ڈیوائس ان پرانی اور زیادہ بہتر گوگل ڈیوائسز کے مقابلے میں کوئی خاص بہتری پیش نہیں کرتی جو پہلے سے مارکیٹ میں موجود ہیں۔
گوگل ہوم اسپیکر کیوں ناکام ہے؟
پاکستان میں، جہاں درآمد شدہ ٹیکنالوجی کی قیمتیں بھاری ٹیکسوں اور کرنسی کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے پہلے ہی بہت زیادہ ہیں، 99 ڈالر (تقریباً 28,000 سے 30,000 روپے) خرچ کرنے کے لیے کارکردگی کا بہتر ہونا ضروری ہے۔ نیا اسپیکر صرف آڈیو پر توجہ مرکوز کرتا ہے، لیکن اس میں وہ ٹچ انٹرفیس اور اسکرین نہیں ہے جو اصل نیسٹ ہب (Nest Hub) کو ایک بہتر انتخاب بناتی ہے۔
- اسکرین کا فقدان: پرانے ہب کے برعکس، یہ ڈیوائس مکمل طور پر صرف آواز پر منحصر ہے۔
- معمولی بہتری: ساؤنڈ کوالٹی میں ہونے والی بہتری نہ ہونے کے برابر ہے۔
- ویلیو: پرانے ماڈل جیسے کہ اصل نیسٹ ہب، کم قیمت میں زیادہ فنکشنلٹی فراہم کرتے ہیں۔
نیسٹ ہب پر ہی رہیں
بہت سے صارفین اب بھی اس نئے اسپیکر کے بجائے پرانے نیسٹ ہب کو ترجیح دیتے ہیں۔ آپ کا کیلنڈر دیکھنے، ڈور بیل کی ویڈیو دیکھنے، اور اسمارٹ ہوم کو بصری طور پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت اب بھی بے مثال ہے۔ اگر آپ پہلے سے گوگل کے اسمارٹ ایکو سسٹم کا حصہ ہیں، تو اسکرین کے بغیر ایسا اسپیکر خریدنا جو آپ کی آٹومیشن میں کوئی نئی سہولت نہ لائے، غیر ضروری خرچہ ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اپنا بجٹ خرچ کرنے سے پہلے، اصل نیسٹ ہب کے ریفربشڈ یا اسٹاک میں موجود یونٹس تلاش کریں۔ یہ ایک بہت زیادہ جامع تجربہ فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ کو صرف موسیقی یا پوڈ کاسٹ کے لیے آڈیو ڈیوائس چاہیے، تو مقامی مارکیٹوں جیسے لاہور کے حفیظ سینٹر یا کراچی کے صدر میں دستیاب تھرڈ پارٹی بلوٹوتھ اسپیکر کم قیمت میں بہتر ساؤنڈ کوالٹی دے سکتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
گوگل کی آئندہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔ کمپنی 2026 کے آخر تک اپنی پرانی اسکرین والی ڈیوائسز میں مزید AI فیچرز متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جب تک اس نئے اسپیکر میں کوئی بڑی تبدیلی یا قیمت میں کمی نہیں آتی، اس وقت تک اسے خریدنے سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔
