انسانی حقوق کونسل برائے آزاد جموں و کشمیر (HRC-AJK) نے صحافی اور محقق دانش ارشاد کو pakistan terror watchlist (پاکستان کی دہشت گردی واچ لسٹ) میں شامل کرنے کے قانونی جواز پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ کارروائی دانش ارشاد کی جانب سے خطے میں ہونے والے حالیہ عوامی احتجاج کی کوریج کے بعد کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے ان رپورٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جن کے مطابق اس مصنف کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے فورتھ شیڈول میں ڈال دیا گیا ہے، جسے وہ صحافت اور آزادیِ اظہار پر براہِ راست حملہ قرار دے رہے ہیں۔

23 اگست 2024 کو انسانی حقوق کی تنظیم نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دانش ارشاد کے خلاف عائد الزامات کو واضح کرے۔ مذکورہ صحافی آزاد کشمیر کے عوام کے سماجی و معاشی مسائل، خصوصاً بجلی کے بلوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف ہونے والے بڑے عوامی مظاہروں کو مسلسل رپورٹ کر رہے تھے۔

اس کیس کے اہم حقائق درج ذیل ہیں:
- نشانے پر آنے والے صحافی: دانش ارشاد، ایک آزاد محقق، مصنف اور رپورٹر ہیں جو آزاد کشمیر میں سیاسی اور سماجی تحریکوں کو دستاویزی شکل دیتے رہے ہیں۔
- سرکاری اقدام: انہیں مبینہ طور پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے، جو کہ بنیادی طور پر pakistan terror watchlist ہے۔
- تاریخ: انسانی حقوق کی تنظیم نے 23 اگست 2024 کو اس اقدام پر باضابطہ اعتراضات اٹھائے۔
- بنیادی مسئلہ: ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی مسائل پر آزادانہ رپورٹنگ کو دبانے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کونسل کا اظہارِ تشویش

انسانی حقوق کونسل برائے آزاد کشمیر نے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافت کو کبھی بھی دہشت گردی کے برابر نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ مقامی حقوق کے کارکنوں کے مطابق، دانش ارشاد کا کام مکمل طور پر پیشہ ورانہ تھا، جس کا مرکز آزاد کشمیر کے عام شہریوں کو درپیش بنیادی مسائل تھے۔ انہیں pakistan terror watchlist میں شامل کر کے حکام نے خطے میں کام کرنے والے دیگر میڈیا پروفیشنلز کو ایک خوفناک پیغام دیا ہے۔

کونسل نے نشاندہی کی کہ ادیبوں اور محققین کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی قانون سازی کا استعمال ملک کے جمہوری ڈھانچے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے وزارتِ داخلہ اور مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے شواہد پیش کریں جن کی بنیاد پر ایک پرامن محقق کا نام اس فہرست میں ڈالا گیا جو قومی سلامتی کے لیے حقیقی خطرہ بننے والے عناصر کے لیے مخصوص ہے۔

فورتھ شیڈول اور پاکستان دہشت گردی واچ لسٹ کو سمجھیں

اس صورتحال کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ فورتھ شیڈول میں نام شامل ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کا فورتھ شیڈول ایک ایسی ہائی سیکیورٹی واچ لسٹ ہے جس کی نگرانی صوبائی محکمہ داخلہ اور وفاقی حکومت کرتے ہیں۔

جب کسی شخص کا نام اس فہرست میں شامل کیا جاتا ہے، تو اسے شدید قانونی اور ذاتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے:
- نقل و حرکت پر پابندی: وہ متعلقہ تھانے کے سربراہ کی تحریری اجازت کے بغیر اپنا علاقہ نہیں چھوڑ سکتے۔
- مالیاتی پابندیاں: ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے جاتے ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی مالیاتی سہولت یا قرض حاصل کرنے کے اہل نہیں رہتے۔
- نگرانی: انہیں باقاعدگی سے پولیس کے سامنے حاضری دینا پڑتی ہے اور وہ مستقل ریاستی نگرانی میں رہتے ہیں۔
- دستاویزات کی منسوخی: ان کا پاسپورٹ بلاک کر دیا جاتا ہے، جس سے ان کا بیرونِ ملک سفر نامکن ہو جاتا ہے۔

ایک پیشہ ور صحافی کے لیے یہ پابندیاں ان کے کیریئر کو مکمل طور پر تباہ کر دیتی ہیں۔ یہ انہیں رپورٹنگ کے لیے سفر کرنے سے روکتی ہیں، ان کی آمدنی کے ذرائع بند کرتی ہیں اور معاشرے میں انہیں ایک سیکیورٹی خطرے کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

آزاد کشمیر کے حالیہ احتجاج کا پس منظر

دانش ارشاد کے خلاف یہ اقدام آزاد کشمیر میں گزشتہ سال ہونے والے شدید عوامی مظاہروں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی قیادت میں ہونے والے ان مظاہروں میں سستی بجلی، گندم پر سبسڈی اور انتظامی اصلاحات کے مطالبات کیے جا رہے تھے۔

دانش ارشاد ان چند آزاد آوازوں میں سے ایک تھے جنہوں نے ان مظاہروں کی زمینی حقیقت، انتظامیہ کے سخت ردعمل اور مقامی آبادی کے مطالبات کو مسلسل اور غیر جانبدارانہ طور پر پیش کیا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ pakistan terror watchlist میں ان کی شمولیت کا براہِ راست تعلق ان کی اسی آزادانہ رپورٹنگ سے ہے۔

صحافتی آزادی کو خطرے کی صورت میں کیا کیا جائے؟

اگر آپ پاکستان میں ایک میڈیا پروفیشنل یا سول سوسائٹی کے کارکن ہیں اور آپ کو ریاستی دباؤ کا سامنا ہے، تو تحفظ کے لیے درج ذیل قانونی راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں:
- رٹ پٹیشن دائر کریں: فورتھ شیڈول میں نام شامل کرنے کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں آئینی رٹ پٹیشن کے ذریعے چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں عدالتوں نے ایسے کئی نام خارج کیے ہیں جہاں ریاست ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی۔
- صحافتی تنظیموں سے رابطہ کریں: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) اور مقامی پریس کلبوں سے رابطہ کریں۔ اجتماعی آواز اکثر حکام کو اپنے یکطرفہ فیصلوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
- اپنے کام کا ریکارڈ رکھیں: اپنی تمام پیشہ ورانہ تحریروں، شائع شدہ مضامین اور سرکاری خط و کتابت کا تفصیلی ریکارڈ رکھیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ آپ کی سرگرمیاں خالصتاً صحافتی نوعیت کی ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر کی انتظامیہ نے ابھی تک انسانی حقوق کونسل کے ان تحفظات پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا ہائی کورٹ دانش ارشاد کی جانب سے دائر کی جانے والی کسی درخواست پر سماعت کرتی ہے یا نہیں۔

مزید برآں، بین الاقوامی صحافتی تنظیموں جیسے کہ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) اور رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (RSF) کا ردعمل بھی انتہائی اہم ہوگا۔ اگر دباؤ بڑھتا ہے تو حکومت اس لسٹ کا جائزہ لینے اور ایسے ناموں کو نکالنے پر مجبور ہو سکتی ہے جو سیکیورٹی کے لیے حقیقی خطرہ نہیں ہیں۔