اگر آپ نیا فون خریدنے کا سوچ رہے ہیں، تو آئی فون 17 پرو ابھی خریدنا، آنے والے نئے ماڈل کے انتظار سے زیادہ عملی فیصلہ ہے۔ ایپل کی جانب سے اگلے ماہ آئی فون 18 پرو متعارف کرائے جانے کی توقع ہے، جس کی وجہ سے بہت سے خریدار انتظار کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ تاہم، پاکستان میں موجودہ مارکیٹ کے حالات اور ٹیکس کے ڈھانچے کو دیکھتے ہوئے، 17 پرو مالی اور تکنیکی لحاظ سے ایک بہتر انتخاب ہے۔
آئی فون 17 پرو ابھی کیوں خریدیں؟
ابھی خریداری کرنے کی سب سے بڑی وجہ مارکیٹ میں استحکام ہے۔ جب بھی آئی فون کی کوئی نئی جنریشن لانچ ہوتی ہے، تو کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں میں فون کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ ریٹیلرز اور امپورٹرز نئی ڈیوائسز پر بھاری منافع کماتے ہیں۔ آئی فون 17 پرو خرید کر آپ اس 'ابتدائی قیمت کے اضافے' سے بچ سکتے ہیں۔
- قیمتوں میں استحکام: 17 پرو کی موجودہ مارکیٹ قیمتیں اب کافی مستحکم ہو چکی ہیں۔
- پی ٹی اے رجسٹریشن: پرانے ماڈل کی پی ٹی اے رجسٹریشن فیس کا تعین پہلے سے واضح ہوتا ہے، جبکہ نئے ماڈل کی فیسیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔
- کارکردگی: نئے ماڈل میں متوقع تبدیلیاں اتنی معمولی ہیں کہ وہ اضافی قیمت کا جواز پیدا نہیں کرتیں۔
مقامی مارکیٹ کی حقیقت
پاکستان میں ایک فلیگ شپ فون کی اصل قیمت صرف اس کا ٹیگ نہیں ہے، بلکہ اس میں پی ٹی اے رجسٹریشن بھی شامل ہے۔ آئی فون 17 پرو اس وقت ایسی پوزیشن پر ہے جہاں اس کے پرزے اور مرمت کی سہولیات بھی آسانی سے دستیاب ہیں۔ اگر آپ آئی فون 18 پرو کا انتظار کریں گے تو نہ صرف آپ کو ہارڈ ویئر کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنی پڑے گی بلکہ پی ٹی اے ٹیکس بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کا موجودہ فون سست ہو چکا ہے یا بیٹری ساتھ نہیں دے رہی، تو انتظار کرنا چھوڑ دیں۔ مجاز ریٹیلرز سے قیمتوں کا موازنہ کریں اور ادائیگی سے پہلے پی ٹی اے کی ویب سائٹ (dirbs.pta.gov.pk) پر ڈیوائس کا اسٹیٹس ضرور چیک کریں۔ ہمیشہ فیکٹری ان لاک (Factory Unlocked) یونٹ ہی خریدیں تاکہ نیٹ ورک کے مسائل سے بچا جا سکے۔
آگے کیا ہوگا؟
ستمبر 2026 میں آئی فون 18 پرو کی باضابطہ رونمائی پر نظر رکھیں۔ اگرچہ نئے ماڈل کے حوالے سے کافی ہائپ ہوگی، لیکن اپنے روزمرہ کے استعمال کو سامنے رکھیں اور دیکھیں کہ کیا نئی تبدیلیاں آپ کی ضروریات کے مطابق ہیں۔ اکثر، پچھلے سال کا پرو ماڈل اگلے 18 ماہ تک بہترین ویلیو فار منی فلیگ شپ ثابت ہوتا ہے۔
