ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چھوٹے بچوں کے زیادہ اسکرین ٹائم کی بنیادی وجہ بچوں کا رویہ نہیں بلکہ والدین کی ذہنی کیفیت ہے۔ میامی میں سینٹر فار چلڈرن اینڈ فیملیز کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق، جب والدین ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، تو وہ گھر کے کاموں کو سنبھالنے کے لیے ڈیجیٹل ڈیوائسز کو ایک سہارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
ذہنی دباؤ اور اسکرین ٹائم کا تعلق
پاکستان میں بہت سے خاندانوں کے لیے parental stress and screen time کا تعلق ایک روزمرہ کی حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جب والدین کام کے دباؤ، مالی مسائل اور گھریلو ذمہ داریوں میں گھرے ہوتے ہیں، تو اسمارٹ فون انہیں سکون حاصل کرنے کا سب سے آسان ذریعہ نظر آتا ہے۔ یہ بچوں کی تفریح کے لیے نہیں، بلکہ والدین کی جانب سے اپنے ذہنی بوجھ کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
- بنیادی وجہ: والدین کا بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ۔
- ثانوی عنصر: موبائل فون کا ایک 'ڈیجیٹل آیا' کے طور پر استعمال۔
- اثرات: گھر کے کاموں کے دوران اسکرین پر انحصار میں اضافہ۔
پاکستانی خاندانوں کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟
ہمارے معاشرے میں جہاں جوائنٹ فیملی سسٹم بدل کر نیوکلیئر فیملی کی طرف جا رہا ہے، بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اکثر والدین پر ہی ہوتی ہے۔ مہنگائی اور کام کے دباؤ کے درمیان، فون ایک آسان حل بن جاتا ہے۔ تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس عادت سے والدین اور بچوں کے درمیان وہ تعلق متاثر ہوتا ہے جو بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔
ڈیجیٹل عادات کو کیسے کنٹرول کریں؟
اگر آپ ذہنی دباؤ کے لمحات میں بچوں کو فون دے دیتے ہیں، تو آپ اکیلے نہیں ہیں۔ اس عادت کو بدلنے کے لیے کچھ تجاویز:
- فون فری وقت مقرر کریں: دن میں کم از کم 15 منٹ ایسے رکھیں جس میں کوئی اسکرین نہ ہو۔
- بچوں کو کاموں میں شامل کریں: اگرچہ اس میں صبر کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن یہ بچوں کی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے۔
- محرکات کی شناخت کریں: یہ دیکھیں کہ آپ کو کن اوقات میں سب سے زیادہ دباؤ ہوتا ہے، اور ان اوقات کے لیے متبادل سرگرمی جیسے رنگ بھرنا یا بلاکس سے کھیلنا تیار رکھیں۔
آگے کیا ہوگا؟
صحت کے ماہرین اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بچوں کے رویے کو بہتر بنانے کے لیے والدین کی ذہنی صحت پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کا ذہنی دباؤ آپ کے بچوں کے ساتھ تعلق کو متاثر کر رہا ہے، تو اپنی صحت کو ترجیح دیں اور ڈیجیٹل حل پر انحصار کم کریں۔ اپنی جذباتی کیفیت سے آگاہی ہی ایک بہتر گھریلو ماحول کی طرف پہلا قدم ہے۔
