رواں سال کا آخری سورج گرہن 12 اور 13 اگست کی درمیانی شب رونما ہوگا، لیکن پاکستان میں موجود شہریوں کے لیے یہ ایک مایوس کن خبر ہے کہ یہ فلکیاتی عمل ملک کے کسی بھی حصے سے دکھائی نہیں دے گا۔
رواں سال کا آخری سورج گرہن اور پاکستان
ماہرینِ فلکیات کے مطابق، یہ ایک مکمل سورج گرہن ہے جو 12 اور 13 اگست کی درمیانی شب ہوگا۔ چونکہ یہ عمل اس وقت ہوگا جب پاکستان میں رات کا وقت ہوگا اور سورج افق سے نیچے ہوگا، اس لیے اس گرہن کا مشاہدہ پاکستان سے کرنا ممکن نہیں ہے۔ پاکستان میں اس گرہن کے دوران دن کی روشنی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی یہ کسی بھی طرح سے مقامی سطح پر دیکھا جا سکے گا۔
گرہن کا مشاہدہ کیوں ممکن نہیں؟
سورج گرہن کا مشاہدہ مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ زمین کے کس حصے پر دن کا وقت ہے اور وہاں سے سورج اور چاند کی پوزیشن کیا ہے۔ جب چاند سورج اور زمین کے درمیان آتا ہے تو اس کا سایہ زمین کے مخصوص حصوں پر پڑتا ہے۔ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اس بار اس سائے کی زد میں نہیں ہے، جس کی وجہ سے یہاں کے رہائشی اس قدرتی منظر کو نہیں دیکھ پائیں گے۔
- تاریخ: 12 اور 13 اگست
- مشاہدہ: پاکستان میں ممکن نہیں
- نوعیت: مکمل سورج گرہن
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
چونکہ پاکستان میں یہ گرہن نظر ہی نہیں آئے گا، اس لیے یہاں کے شہریوں کو کسی قسم کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے یا خصوصی چشمے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ فلکیاتی واقعات میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو آپ ناسا (NASA) کی ویب سائٹ یا دیگر بین الاقوامی خلائی اداروں کے آن لائن پورٹلز پر اس گرہن کی لائیو اسٹریمنگ دیکھ سکتے ہیں، جہاں سے دنیا کے دیگر حصوں میں ہونے والے مشاہدات براہِ راست نشر کیے جاتے ہیں۔
مستقبل میں کیا دیکھنا ہے؟
اگرچہ یہ گرہن پاکستان میں نہیں دیکھا جا سکتا، لیکن فلکیاتی کیلنڈر میں دیگر اہم واقعات شامل رہتے ہیں۔ آپ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (PMD) کی ویب سائٹ سے مستقبل میں ہونے والے چاند گرہن یا دیگر خلائی تبدیلیوں کے بارے میں مستند معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ آسمانی مظاہر سے جڑی درست معلومات کے لیے ہمیشہ سرکاری اداروں یا مستند سائنسی ویب سائٹس پر انحصار کریں۔
