ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی جانب سے فال 2026 تک تمام یونیورسٹی ڈگریوں میں تین کریڈٹ گھنٹے کا مصنوعی ذہانت (AI) کا کورس لازمی قرار دیے جانے کے بعد پاکستانی جامعات میں ایک بڑی تعلیمی تبدیلی کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔
تعلیمی نظام میں تبدیلی کی ضرورت
ملک بھر کی جامعات میں روایتی نصاب اب جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق نہیں رہا۔ جہاں دنیا بھر میں طلباء مصنوعی ذہانت کے اوزاروں اور جنریٹو AI سے استفادہ کر رہے ہیں، وہیں پاکستانی تعلیمی نظام میں اس ٹیکنالوجی کا فقدان محسوس کیا جا رہا تھا۔ ایچ ای سی کی یہ نئی پالیسی اس خلا کو پر کرنے کے لیے لائی گئی ہے تاکہ یہاں کے فارغ التحصیل طلباء عالمی مارکیٹ میں مسابقت کے قابل بن سکیں۔
پالیسی کے اہم نکات اور چیلنجز
فال 2026 تک نافذ ہونے والی اس پالیسی کے تحت ہر طالب علم کے لیے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو، AI کی بنیادی تعلیم حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا۔ زیادہ تر سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں میں جدید لیبز، ہنر مند اساتذہ اور مناسب انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کی شدید کمی ہے۔
- فال 2026 تک تمام یونیورسٹی ڈگریوں میں 3 کریڈٹ گھنٹے کا AI کورس لازمی ہوگا۔
- اساتذہ کی تربیت اور نصاب کی تیاری کے لیے جامعات کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
- طلباء کو جدید جنریٹو AI ٹولز تک رسائی فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
طلباء اور اساتذہ کے لیے اگلا قدم
اگر آپ کسی پاکستانی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں یا داخلہ لینے کا سوچ رہے ہیں، تو آپ کو اپنے فیلڈ کے ساتھ ساتھ بنیادی ٹیکنالوجی اور AI کے اصولوں سے خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ جامعات کو بھی چاہیے کہ وہ محض کاغذی کارروائی کے بجائے عملی تربیت پر توجہ دیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ HEC اس پالیسی کے نفاذ کے لیے جامعات کو کتنا مالی فنڈ فراہم کرتی ہے اور آیا اساتذہ کو بروقت تربیت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔
