جاپان میں ایک 32 سالہ خاتون کو ایک مشہور آن لائن سٹور پر ہزاروں جعلی آرڈرز دینے اور بعد میں انہیں منسوخ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے، جس سے کمپنی کو 75 کروڑ روپے کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

آن لائن شاپنگ میں ہونے والا فراڈ کیسے کام کرتا ہے؟

یہ آن لائن شاپنگ فراڈ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید ای کامرس پلیٹ فارمز کتنے خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ ملزمہ نے مبینہ طور پر خودکار سافٹ ویئر یا متعدد جعلی اکاؤنٹس کا استعمال کرتے ہوئے کمپنی کے انونٹری مینجمنٹ سسٹم کو الجھا دیا۔ اس کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ بڑی تعداد میں آرڈرز بک کروا کر سٹاک کو 'لاک' کر دیتی تھی، جس سے حقیقی خریداروں کے لیے اشیاء دستیاب نہیں رہتی تھیں، اور پھر عین وقت پر آرڈرز منسوخ کر دیے جاتے تھے۔

75 کروڑ روپے کے نقصان کی تفصیلات

اگرچہ 75 کروڑ روپے کی رقم بہت بڑی ہے، لیکن یہ اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ سائبر حملے کمپنیوں کے لیے کتنے مہنگے ثابت ہو سکتے ہیں۔ عام صارفین کے لیے اس طرح کے واقعات کے اثرات یہ ہوتے ہیں کہ کمپنیاں اپنی سکیورٹی سخت کر دیتی ہیں، جیسے کہ آرڈر دینے کے عمل میں مزید تصدیقی مراحل کا اضافہ کرنا، جس سے خریداری کا عمل سست ہو سکتا ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگرچہ یہ کیس ایک بڑی کمپنی کے خلاف تھا، لیکن انفرادی صارفین بھی اکثر ایسے فراڈز کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اپنی حفاظت کے لیے درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:
- ہمیشہ کمپنی کی آفیشل ایپ یا ویب سائٹ سے خریداری کریں۔
- ایسے پیمنٹ گیٹ ویز استعمال کریں جو فراڈ پروٹیکشن فراہم کرتے ہوں۔
- خریداری کے بعد اپنے بینک اکاؤنٹ کی ٹرانزیکشن ہسٹری کو ضرور چیک کریں۔
- اپنے شاپنگ اکاؤنٹس پر ٹو فیکٹر اتھنٹیکیشن (2FA) لازمی آن رکھیں۔

مستقبل میں کیا توقع رکھی جائے؟

دنیا بھر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ای کامرس کے شعبے میں سائبر کرائمز پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے کمپنیاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کر رہی ہیں، مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی تیز ہو رہی ہے۔ پاکستان میں بھی ای کامرس مارکیٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے ڈیٹا کو محفوظ رکھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ سائبر کرائم سیل سے رابطہ کریں۔