عالمی بینک کے تعاون سے تیار کردہ گیس سیکٹر کی ڈائریکیولیشن روڈ میپ اس ماہ کے آخر تک حضوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس سے ملک بھر میں توانائی کی قیمتوں اور فراہمی کے نظام میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔ اسلام آباد کے پالیسی سازوں نے بین الاقوامی قرض دہندگان کے ساتھ طویل تکنیکی مشاورت کے بعد اس بلیو پرنٹ کو حتمی شکل دی ہے۔ اس تمام مشق کا بنیادی مقصد سرکاری اجارہ داریوں کا خاتمہ کرنا، پیٹرولیم اور گیس سپلائی چین میں مسابقت کو فروغ دینا اور یوٹیلیٹی کمپنیوں کے مالیاتی بحران کو ختم کرنا ہے۔
کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں گیس کے صارفین کو طویل عرصے سے گیس کی قلت، بڑھتے ہوئے بلوں اور گردشی قرضوں کے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ یہ نیا فریم ورک نجی کمپنیوں کو براہ راست ایل این جی درآمد کرنے اور فروخت کرنے کی اجازت دے کر ان ساختی رکاوٹوں کو دور کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگر وزیراعظم اس کی منظوری دے دیتے ہیں تو ریگولیٹری نگرانی کو مکمل طور پر اوگرا (OGRA) جیسے خود مختار اداروں کے سپرد کر دیا جائے گا۔
گیس سیکٹر کی ڈائریکیولیشن روڈ میپ کی تفصیلات
پاکستان کی گھریلو گیس کی مارکیٹ طویل عرصے سے مصنوعی قیمتوں اور نجی شعبے کی محدود شرکت کا شکار رہی ہے۔ اصلاحات کا یہ آنے والا پیکج ایک کثیر جہتی شیڈول کے تحت ان بنیادی کمزوریوں کو دور کرے گا۔ اس بلیو پرنٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مارکیٹ کے مطابق کرنے، سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کی پائپ لائنوں تک تیسرے فریق کی رسائی کو یقینی بنانے اور صنعتی و گھریلو صارفین کے ٹیرف سلیبز کو معقول بنانے کے لیے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔
- پیش کرنے کی تاریخ: اس ماہ کے آخر تک وزیراعظم آفس میں جمع کرائی جائے گی۔
- اہم ادارہ جاتی تبدیلی: انتظامی وزارتوں سے تجارتی اختیارات کو خود مختار ریگولیٹری اداروں کو منتقل کرنا۔
- بنیادی ہدف: مسابقتی مارکیٹ کی قیمتوں کے ذریعے توانائی کے شعبے کے گردشی قرضوں کا خاتمہ۔
آپ کے ماہانہ بلوں پر اس کا کیا اثر ہوگا
اگر آپ کوئی صنعتی یونٹ چلاتے ہیں یا گھریلو بجٹ سنبھالتے ہیں، تو یہ اصلاحات آپ کے ماہانہ اخراجات کو متاثر کریں گی۔ صنعتی صارفین طویل عرصے سے غیر مسابقتی توانائی کے نرخوں کی شکایت کرتے آئے ہیں جن کی وجہ سے پاکستانی برآمدات بین الاقوامی مارکیٹ میں مہنگی ہو جاتی ہیں۔ مجوزہ فریم ورک کے تحت، صنعتوں کو براہ راست بین الاقوامی اسپاٹ مارکیٹس یا آزاد سپلायرز سے گیس حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔
گھریلو صارفین کے لیے، روایتی سبسڈی کے خاتمے کا مطلب یہ ہوگا کہ ٹیرف درآمدی لاگت کے قریب تر ہو جائیں گے، تاہم کم آمدنی والے طبقے کے لیے ہدف بند امدادی پیکج بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ وزارت توانائی اور پیٹرولیم ڈویژن اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ عام شہریوں پر اچانک قیمتوں کا بوجھ نہ پڑے۔
قارئین کے لیے اگلے اقدامات
کاروبار کے مالکان اور گھریلو صارفین کو چاہیے کہ وہ نئے ٹیرف سٹرکچرز اور تھرڈ پارٹی ایکسرسائز کے حوالے سے اوگرا کے اعلانات پر نظر رکھیں۔ جیسے جیسے مارکیٹ پر مبنی قیمتوں کا نظام نافذ ہوتا ہے، اپنے ماہانہ یوٹیلیٹی بجٹ کا تخمینہ احتیاط سے لگائیں۔ اگر آپ توانائی سے وابستہ کاروبار چلاتے ہیں تو نجی گیس مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ براہ راست شراکت داری کے امکانات تلاش کرنا شروع کریں۔
آنے والے ہفتوں میں کن چیزوں پر نظر رکھیں
اب تمام کی نگاہیں وزیراعظم آفس پر ہیں جہاں اس ماہ کے آخر میں حتمی منظوری دی جانی ہے۔ حکومتی منظوری کے بعد، پیٹرولیم ڈویژن تفصیلی گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرے گا جس میں پائپ لائنوں کی تقسیم اور ریگولیٹری حوالگی کے لیے سخت ٹائم لائنز مقرر کی جائیں گی۔ پارلیمانی بحث اور لیبر یونینز کے ردعمل پر بھی گہری نظر رہے گی۔
