برطانیہ میں ویٹرنری ماہرین نے ایک تاریخی طبی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 15 فٹ لمبے اژدھے کا انسانوں والی جدید ترین تکنیک کے ذریعے کینسر کا کامیاب علاج کیا ہے۔ یہ اژدھا برطانیہ کے مشہور چیسٹر چڑیا گھر میں مقیم ہے، جہاں 23 سالہ مادہ اژدھے، جس کا نام ہالی ووڈ اداکارہ جوڈی فوسٹر کے نام پر رکھا گیا ہے، کا علاج کیا گیا۔ یہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جہاں کسی رینگنے والے جاندار پر انسانوں والی جدید ترین آنکولوجی تکنیک آزمائی گئی۔

حالیہ طبی معائنے اور جدید اسکینز میں کینسر کی واپسی کے کوئی آثار نہیں ملے ہیں، اور اژدھا اب مکمل طور پر صحت یاب ہو چکا ہے۔ اس پیچیدہ طریقہ علاج کی کامیابی نے دنیا بھر میں نایاب اور خطرے سے دوچار رینگنے والے جانداروں کے علاج کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں۔

اس تاریخی طبی کامیابی کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- مریض: 23 سالہ مادہ جالی دار اژدھا (Reticulated Python) نامی "جوڈی فوسٹر"۔
- مقام: چیسٹر چڑیا گھر، چیشائر، برطانیہ۔
- جسامت: 15 فٹ لمبا اژدھا، جسے سنبھالنے کے لیے ماہرین کی ایک بڑی ٹیم درکار تھی۔
- طبی کامیابی: رینگنے والے جاندار پر انسانوں کے لیے مخصوص کینسر تھراپی کا پہلا کامیاب تجربہ۔
- موجودہ صورتحال: حالیہ طبی اسکینز کے مطابق اژدھا اب کینسر سے مکمل طور پر پاک ہے۔

چیسٹر چڑیا گھر میں کینسر کا جدید علاج

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب چیسٹر چڑیا گھر کے عملے نے 23 سالہ اژدھے کے جسم پر ایک مشکوک گلٹی دیکھی۔ اژدھے کی زیادہ عمر اور غیر معمولی جسامت کے باعث روایتی سرجری انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ویٹرنری سرجنز اور کینسر کے ماہرین نے مل کر ایک ایسا علاج تجویز کیا جو عام طور پر انسانی مریضوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

طبی ٹیم نے کینسر کی رسولی کی درست حد بندی کے لیے جدید ترین سٹی اسکین (CT Scan) ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔ اس کی مدد سے ماہرین نے صحت مند خلیات کو نقصان پہنچائے بغیر صرف کینسر زدہ حصے کو نشانہ بنایا۔ انسانی سطح کے تشخیصی اور علاج کے آلات کی بدولت یہ نازک عمل اژدھے کے اندرونی اعضاء کو نقصان پہنچائے بغیر مکمل کر لیا گیا۔

انسانی کینسر تھراپی نے اژدھے کی جان کیسے بچائی؟

سرد خون والے جاندار (Reptile) کا علاج ان طریقوں سے کرنا جو گرم خون والے انسانوں کے لیے بنے ہیں، ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ رینگنے والے جانداروں کا میٹابولزم انسانوں کے مقابلے میں بہت سست ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بے ہوشی کی دوا اور دیگر ادویات کی مقدار کا تعین انتہائی احتیاط سے کرنا پڑتا ہے۔ چیسٹر چڑیا گھر کی طبی ٹیم نے اژدھے کے دورانِ خون اور نظامِ تنفس کے مطابق دواؤں کی مقدار کو ایڈجسٹ کیا۔

علاج کے بعد اژدھے کو چڑیا گھر میں درجہ حرارت کنٹرولڈ ماحول میں رکھا گیا۔ چڑیا گھر کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، علاج سو فیصد کامیاب رہا ہے اور اژدھے نے عام معمول کے مطابق کھانا پینا اور نقل و حرکت شروع کر دی ہے۔ یہ کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ جدید طبی سائنس کی مدد سے جنگلی حیات کا علاج کس قدر مؤثر ہو چکا ہے۔

پاکستانی ویٹرنری ڈاکٹرز اور چڑیا گھروں کے لیے اہم سبق

یہ عالمی کامیابی پاکستان کے ویٹرنری سیکٹر اور جنگلی حیات کے محکموں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کے بڑے چڑیا گھروں، جیسے کراچی چڑیا گھر، لاہور چڑیا گھر اور اسلام آباد وائلڈ لائف پارک میں کئی نایاب اور قیمتی سانپ موجود ہیں جو اکثر تشخیصی سہولیات نہ ہونے کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت جنگلی حیات کے علاج کے لیے جدید تشخیصی آلات اور کینسر کی تھراپی کی سہولیات انتہائی محدود ہیں۔ مقامی ویٹرنری ڈاکٹرز اس کیس سے سبق سیکھتے ہوئے انسانی ہسپتالوں کے ساتھ اشتراک کر سکتے ہیں۔ نجی ہسپتالوں میں موجود سٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینوں کا استعمال کر کے چڑیا گھر کے قیمتی جانوروں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

آگے کیا کرنا اور دیکھنا چاہیے؟

پاکستان میں جنگلی حیات کے شوقین افراد، ویٹرنری کے طلباء اور پالتو جانور رکھنے والوں کے لیے یہ کامیابی جانوروں کی صحت کی دیکھ بھال میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اگر آپ نایاب جانور رکھتے ہیں تو ایسے ڈاکٹروں سے رابطہ رکھیں جو جدید لیبارٹریوں تک رسائی رکھتے ہوں۔

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عالمی ویٹرنری ادارے اس کیس کی طبی تفصیلات کب شائع کرتے ہیں۔ دواؤں کی مقدار، اینستھیزیا کے طریقے اور ریکوری کے اوقات جلد ہی بین الاقوامی طبی جرائد میں شائع کیے جائیں گے۔ لاہور کی یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز (UVAS) جیسے پاکستانی ادارے ان تحقیقات کا مطالعہ کر کے مقامی سطح پر جانوروں کے علاج کے معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔