پاکستان نے 14 اگست 2025 کو اپنی 78 ویں یوم آزادی منایا۔ اس موقع پر روس، امریکہ، ایران اور دیگر دوست ممالک نے پاکستان کو امن، استحکام اور علاقائی ترقی کی خواہشات پیش کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر حمایت حاصل ہوئی ہے، لیکن اس بار ان پیغامات کا وقت اور نوعیت دونوں اہم ہیں۔ 13 اور 14 اگست 2025 کو جاری ہونے والے ان پیغامات نے نہ صرف پاکستان کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ علاقائی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ یہ پیغامات اس وقت آئے ہیں جب اسلام آباد اپنے سالانہ جھنڈا کشی، پریڈ اور عوامی تقریبات کی تیاریوں میں مصروف تھا۔

دنیا نے کیا کہا

  • روس: روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے پاکستان کے عوام کو "دلی مبارکباد" پیش کرتے ہوئے پاکستان کو "وقت آزمودہ شراکت دار" قرار دیا۔ ان کے مطابق ماسکو تجارت، توانائی اور سلامتی کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر پرعزم ہے۔ کرملن کی جانب سے 13 اگست 2025 کو جاری ہونے والے اس بیان میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت چلنے والے مشترکہ منصوبوں کا بھی ذکر کیا گیا اور علاقائی رابطے کو بڑھانے کی امید ظاہر کی گئی۔
  • ریاستہائے متحدہ: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 14 اگست 2025 کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے واشنگٹن کی جانب سے ایک "مستحکم، خوشحال اور جمہوری پاکستان" کی حمایت کا اعادہ کیا۔ روبیو نے کہا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ، اقتصادی ترقی اور عوام سے عوام کے روابط کو مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے بیان میں کسی نئے امدادی پیکج یا معاہدے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
  • ایران: ایرانی صدر منتخب مسعود پزشکیان نے اپنے عہدے پر فائز ہونے کے بعد پہلی بڑی خارجہ پالیسی کے بیان میں اسلام آباد اور تہران کے مابین "بڑھتی ہوئی ہم آہنگی" پر زور دیا۔ 14 اگست 2025 کو جاری ہونے والے اس بیان میں علاقائی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائی اور پاکستان-ایران سرحد پر تجارت کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
  • چین: اگرچہ بیجنگ کی جانب سے کوئی علاحدہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم چینی سفارت خانہ اسلام آباد نے 13 اگست 2025 کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پاکستان کی خودمختاری اور ترقی کے مقاصد کی حمایت کا اعادہ کیا۔ چینی حکام نے پہلے پاکستان کو علاقائی سفارت کاری میں "آہنی بھائی" قرار دیا ہے۔
  • ترکی، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات: انقرہ، ریاض اور ابوظہبی کے رہنماؤں نے بھی پاکستان کو مبارکباد دی ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے پاکستان کو "اسلامی یکجہتی کا مینار" قرار دیا، جبکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کی نئی امیدوں کا اظہار کیا۔

پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے

یہ ہم آہنگ پیغامات پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان حمایتوں سے اسلام آباد کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور دیگر کثیرالجہتی اداروں کے ساتھ جاری مذاکرات میں بہتر شرائط حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ملک اس وقت 2025-26 کے بجٹ میں تقریباً 3.5 کھرب روپے کے مالی خسارے کا سامنا کر رہا ہے۔

عام پاکستانیوں کے لیے ان بین الاقوامی پیغامات سے کئی عملی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ تجارتی سہولت کاری میں بہتری آ سکتی ہے، جس سے پاکستانی ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات پر اہم منڈیوں میں محصولات میں کمی ہو سکتی ہے۔ غیر ملکی ترسیلات جو فی الحال 30 ارب ڈالر سالانہ ہیں، ان پر بھی مثبت اثر پڑ سکتا ہے اگر سفارتی روابط کے ذریعے میزبان ممالک جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پابندیاں کم ہو جائیں۔

پاکستان نے کیسا جواب دیا

وزیراعظم شہباز شریف نے 14 اگست 2025 کو قوم کو خطاب کرتے ہوئے خود کفالت اور قومی اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، "ہم اپنے دوستوں کی حمایت کے لیے شکر گزار ہیں، لیکن پاکستان کی اصل طاقت اس کے عوام میں ہے۔" وزیراعظم نے سندھ اور بلوچستان کے سیلاب زدہ اضلاع کے لیے 50 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا بھی اعلان کیا، جسے بنظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے تقسیم کیا جائے گا۔

  • جھنڈا کشی کی تقریبات صدر ہاؤس، پارلیمنٹ اور اسلام آباد میں فوجی ہیڈ کوارٹرز پر منعقد کی گئیں، جن کے بعد لاہور، کراچی اور پشاور سمیت بڑے شہروں میں پریڈیں نکالی گئیں۔
  • عوامی تقریبات میں صوبائی حکومتوں کی جانب سے ثقافتی پروگرام، خون کے عطیہ کیمپ اور مفت طبی کیمپ شامل تھے۔
  • سوشل میڈیا مہم میں #Happy14August اور #PakistanZindabad جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ ہوئے، جن پر مشاہیر اور اثر انداز افراد نے حب الوطنی کے پیغامات شیئر کیے۔

آگے کیا دیکھنا ہے

  1. آئی ایم ایف مذاکرات: حکومت توقع کر رہی ہے کہ ستمبر 2025 تک نئی قرض پروگرام حتمی شکل اختیار کر لے گا، جس کی شرائط میں ٹیکس ریفارمز اور توانائی کے شعبے کی نجکاری شامل ہو سکتی ہیں۔ کسی تاخیر سے پاکستانی روپے پر دباؤ پڑ سکتا ہے، جو حالیہ ہفتوں میں ڈالر کے مقابلے میں 325-330 روپے کے ارد گرد منڈلا رہا ہے۔
  1. سی پیک فیس تھری: بیجنگ جلد ہی قابل تجدید توانائی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں نئی سرمایہ کاری کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ پاکستانی حکام نے سولر اور ونڈ پروجیکٹس پر مرکوز ایک "گرین سی پیک" پہل کا اشارہ دیا ہے۔
  1. علاقائی سلامتی: پاکستان-افغانستان سرحد پر حالیہ سرحدی واقعات کے بعد تناؤ برقرار ہے۔ ان بین الاقوامی پیغامات سے ممکن ہے کہ کابل پر طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں سے کام کرنے والے عسکریت پسند گروپوں پر پابندی لگانے کا دباؤ بڑھے۔
  1. معاشی راحت: سیلاب زدہ علاقوں کے لیے 50 ارب روپے کا پیکج تو ایک چھوٹا سا قدم ہے۔ آنے والے ہفتوں میں زرعی سبسڈی اور چھوٹے کاروباروں کے قرضوں کے اعلانات پر نظر رکھیں۔

آپ کیا کر سکتے ہیں

  • بی آئی ایس پی سیلاب ریلیف کے لیے اہلیت چیک کریں: تفصیلات کے لیے bisp.gov.pk وزٹ کریں یا 0800-26477 پر کال کریں۔ نامزد اضلاع میں خاندانوں کے لیے رجسٹریشن کھلی ہے۔
  • زرعی اتار چڑھاؤ پر نظر رکھیں: اگر آپ غیر ملکی ترسیلات بھیجنا یا وصول کرنا چاہتے ہیں تو forex.pk یا اپنی بینک کی ایپ پر پی کے آر/یو ایس ڈی کی شرح پر نظر رکھیں۔
  • آئی ایم ایف مذاکرات پر اپ ڈیٹ رہیں: وزارت خزانہ (finance.gov.pk) یا معتبر مالیاتی خبروں کے ذرائع سے تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔

پاکستان کا یوم آزادی نہ صرف ایک عوامی تعطیل ہے بلکہ یہ ملک کی چیلنجوں اور مواقع پر غور کرنے کا موقع بھی ہے۔ دنیا کے پیغامات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ پاکستان تنہا نہیں ہے، لیکن ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کا اصل کام ہمارے اپنے کندھوں پر ہے۔