سعودی عرب کے سرحدی علاقے نجران میں یمنی حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں 11 شہری زخمی ہوئے ہیں، جن میں کم از کم ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
نجران میں حوثی حملے کی تفصیلات
اتحادی افواج کے ترجمان کے مطابق، حوثی ملیشیا نے جان بوجھ کر شہری آبادی اور سول تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ نجران کے سرحدی علاقے میں ہونے والے اس حملے کے بعد امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا ہے۔ پاکستانی سفارت خانہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور زخمی پاکستانی شہری کی خیریت کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ اپریل 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ سرحدی علاقوں میں کشیدگی کا ایک بڑا واقعہ ہے۔
فوجی کیمپوں پر حملے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی
صرف نجران ہی نہیں، بلکہ یمن کے دیگر حصوں میں بھی حوثی ملیشیا کی جانب سے فوجی کیمپوں پر حملوں کی اطلاعات ہیں۔ ان کارروائیوں میں 38 اہلکار ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حالیہ عسکری تصادم اپریل 2022 کے بعد سے سب سے شدید نوعیت کے ہیں، جس سے خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔
پاکستانیوں کے لیے ہدایات
اگر آپ یا آپ کے پیارے سعودی عرب کے جنوبی سرحدی علاقوں میں مقیم ہیں، تو مقامی سیکیورٹی حکام کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں جدہ میں موجود پاکستانی قونصل خانے یا ریاض میں سفارت خانے سے فوری رابطہ کریں۔ ہمیشہ اپنے پاس سفری دستاویزات اور ایمرجنسی نمبرز موجود رکھیں۔
آگے کیا ہوگا؟
سیاسی مبصرین اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا یہ حملے جنگ بندی کے مکمل خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے یا نہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے سیکیورٹی کے مزید سخت اقدامات متوقع ہیں۔ آنے والے دنوں میں سرحدی صورتحال اور اتحادی افواج کے جوابی ردعمل پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
