جب پورا ملک یوم شہدائے پولیس منا رہا ہوتا ہے، تو ان گھروں میں سناٹا ہوتا ہے جہاں سے کوئی جوان فرض کی راہ میں جان قربان کر چکا ہوتا ہے۔ یہ دن صرف سرکاری تقریبات یا سلامی دینے کا نام نہیں ہے، بلکہ ان ہزاروں ماؤں، بیویوں اور بچوں کے لیے ایک اور طویل دن ہے جو اپنے پیاروں کی یاد میں گزرتا ہے۔ ہر سال پولیس کے محکمے میں تعظیمی پریڈز ہوتی ہیں، مگر ان کے پیچھے وہ گھرانے اکیلے رہ جاتے ہیں جن کی دنیا ہی اجڑ چکی ہوتی ہے۔

وردی کے پیچھے چھپا کبھی نہ ختم ہونے والا دکھ

سرکاری تقریبات میں پھول چڑھانے اور گارڈ آف آنر پیش کرنے کے مناظر تو عام ہیں، لیکن ان کے پیچھے گھروں کے اندر کا سچ بہت مختلف ہوتا ہے۔ بوڑھے والدین کے لیے تمام عمر کی تکلیف اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب انہیں اپنا بیٹا یاد آتا ہے جسے انہوں نے جوانی میں دفنایا ہو۔ چھوٹے بچے اکثر اپنی معصومیت میں پوچھتے ہیں کہ ان کے بابا کب واپس آئیں گے، کیونکہ ان کی چھوٹی عمر انہیں اس سچائی کا ادراک کرنے نہیں دیتی کہ ان کے والد اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ یہ صدمہ صرف ایک دن کا نہیں بلکہ پوری زندگی کا روگ بن جاتا ہے۔

  • شہداء کے اہل خانہ کو اکثر پنشن کے حصول کے لیے دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔
  • چھوٹے بچوں کی پرورش اور تعلیم بغیر باپ کے انتہائی کٹھن ہو جاتی ہے۔
  • بوڑھے والدین کا سہارا چھن جانے سے ان کی مالی اور ذہنی حالت بگڑ جاتی ہے۔

حکومتی وعدے اور زمینی حقائق

صوبائی حکومتیں اور پولیس کے محکمے ہر سال شہداء کے ورثاء کے لیے مالی امداد، پلاٹوں اور بچوں کی مفت تعلیم کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں، لیکن زمینی حقائق اکثر مختلف ہوتے ہیں۔ بیوہ خواتین اکثر شکوہ کرتی ہیں کہ پنشن کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف ایک دن خراج تحسین پیش کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ان خاندانوں کی مستقل دیکھ بھال ریاستی ترجیحات کا حصہ بننی چاہیے۔

آپ کو بطور شہری کیا کرنا چاہیے

اگر آپ پولیس کے شہداء کے ساتھ حقیقی یکجہتی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، تو اپنے محلے یا شہر کے پولیس حکام سے رابطہ کر کے جانیں کہ کیا وہاں شہداء فیملیز کے لیے کوئی مقامی ویلفیئر سسٹم موجود ہے۔ کمیونٹی کی سطح پر ایسے خاندانوں کی مدد کرنا ریاست کا ہاتھ بٹانے کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ، اپنے منتخب نمائندوں پر زور دیں کہ وہ پولیس کے بجٹ میں شہداء کے بچوں کی تعلیم اور علاج معالجے کے لیے مزید فصوص مختص کروائیں۔

آئندہ کیا دیکھنا ہوگا

آئندہ چند مہینوں میں صوبائی اسمبلیوں کے بجٹ سیشنز پر نظر رکھیں کہ پولیس ویلفیئر کے لیے کتنی رقم رکھی جاتی ہے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا حکومت کی طرف سے کیے جانے والے مالی اعلانات صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہتے ہیں یا واقعی شہداء کے بچوں تک امداد پہنچتی ہے۔ شفافیت ہی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ ریاست اپنے محافظوں کے خاندانوں کے ساتھ کتنی مخلص ہے۔